اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے پیغام میں کہاکہ ہر سال تمبا کو نوشی سے 70لاکھ اموات سنگین بحران کی شدت اختیار کر گیاہے، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں ایسے قوانین وضع اور مؤثر نفاذ قائم کریں جو عوام اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور موت کے سوداگروں کے خلاف مزاحمت کریں۔پارلیمنٹ اور حکومت کے علاوہ والدین، اساتذہ، فنکار، شعرا، گلوکار، موسیقار، اداکار، ڈرامہ نگار، طبی ماہرین اور سماجی رہنما عوامی شعور بیدار کرنے، تمباکو مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنے اور اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ گھر اور معاشرے کی سطح پر مثبت تبدیلیاں صحتِ عامہ کے شعبے میں قومی ترقی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ صدر نے کہاکہ دنیا بھر میں مختلف حکومتوں نے سول سوسائٹی کے تعاون سے قوانین و ضوابط اور آگاہی مہمات کے ذریعے تمباکو کے استعمال میں کمی لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس کے باوجود تمباکو آج بھی عالمی سطح پر، بشمول پاکستان، عوامی صحت اور معاشی بہبود کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تمباکو ہر سال دنیا بھر میں 70 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، جن میں تقریباً 16 لاکھ اموات بالواسطہ تمباکو نوشی کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔یہ اعداد و شمار ہمیں اس سنگین بحران کی شدت پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں جو آج بھی لاکھوں افراد اور خاندانوں کو متاثر کر رہا ہے۔بچے اور نوجوان خاص طور پر اس خطرے سے دوچار ہیں۔ تمباکو اور نکوٹین کی صنعت نئی مصنوعات اور جدید تشہیری حکمتِ عملیوں کے ذریعے نوجوان نسل کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ ان میں نشے کی عادت پیدا اور اسے برقرار رکھا جا سکے۔ کم عمری میں نکوٹین کا عادی ہونے سے زندگی بھر اس پر انحصار کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔