لندن( جنگ نیوز)برصغیر میں دودھ پتی چائے صرف ایک مشروب نہیں بلکہ روزمرہ زندگی، مہمان نوازی اور سماجی روایت کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے، مگر ماہرینِ صحت نے اس مقبول ترین مشروب کے بے جا استعمال پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرِ غذائیت کے مطابق چائے بذاتِ خود نقصان دہ نہیں، لیکن اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کس طرح تیار کیا جا رہا ہے۔ چائے میں شامل اجزا، دودھ کی مقدار، چینی کی مقدار اور پتی کی نوعیت اس کے فائدے یا نقصان کا تعین کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چائے کو اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ جسم کو تازگی اور توانائی فراہم کرتی ہے، تاہم دن میں تین سے چار کپ سے زیادہ چائے پینا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرِ غذائیت نے خبردار کیا کہ دودھ پتی چائے میں چینی کی زیادہ مقدار جسم میں شوگر لیول کو بڑھا سکتی ہے، جو وقت کے ساتھ ذیابیطس جیسے خطرناک مرض کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح زیادہ دیر تک پکی ہوئی کڑک چائے بعض افراد میں بدہضمی، پیٹ میں گیس اور معدے کی حساسیت جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ادرک، الائچی، دار چینی، لونگ اور سونف جیسے قدرتی اجزا نہ صرف ذائقہ بڑھاتے ہیں بلکہ نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ سونے سے تین سے چار گھنٹے قبل چائے یا کسی بھی کیفین والے مشروب سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔