کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پی پی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم جبکہ ایم کیوایم ہر دور میں حکومت کا حصہ رہتی ہے، پٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے، صنعتی بجلی 9سینٹ فی یونٹ پر فراہم کی جائے، گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے اور ان نرخوں کو کم از کم تین سال کیلئے منجمد کیا جائے تاکہ صنعت، تجارت اور معیشت کو استحکام حاصل ہوسکے، حکومت نے 22روپے فی لیٹر کمی کی ہے جبکہ موجودہ حالات میں فوری طور پر 122 روپے فی لیٹر کمی کی جانی چاہئے، جنگی اور غیر معمولی معاشی حالات میں پیٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں، یہ لیوی ریفائنریوں کی استعداد بڑھانے کیلئے لگائی گئی تھی، لیکن آج تک اس مقصد کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ اس بات کا اظہار انہوں نے قائم مقام امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق وٹاؤن چیئرمینوں کے ہمراہ ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری ادائیگیاں بند کی جائیں۔ اس سال بھی قوم نے تقریباً 1800 ارب روپے ایسی بجلی کے ادا کیے جو پیدا ہی نہیں کی گئی۔حکومت پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر اپنی ناکامی کا جواب دے۔ چار سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود اس منصوبے پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ سال 605 ارب روپے ٹیکس دیا جبکہ جاگیردار طبقہ 12 ارب روپے بھی جمع نہیں کراسکا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوامی مفاد پر مبنی معاشی پالیسیوں، بااختیار بلدیاتی نظام، شفاف حکمرانی اور کرپشن کے خاتمے کی ضرورت ہے اور جماعت اسلامی ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ کراچی کے مسائل کا واحد حل ایک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، جس کے باعث ٹاؤنز کو وہ کام بھی کرنا پڑرہا ہے جو ان کی ذمہ داری نہیں۔ کرپشن اور لوٹ مار نے پورے نظام کو مفلوج کردیا ہے۔