خیبر پختونخوا اسمبلی میں کیلاش میرج ایکٹ بل 2026ء پیش کردیا گیا، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے بل پیش کیا۔
مجوزہ ایکٹ میں شادی اور خاندانی قوانین سے متعلق اہم شقیں شامل کی گئی ہیں۔
زبردستی، دباؤ یا دھوکا دہی کے تحت کی گئی شادی عدالت کے ذریعے کالعدم قرار دی جا سکے گی جبکہ اہم معلومات چھپانے یا غلط بیانی کو بھی شادی ختم کرنے کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
بل کے مطابق ظلم، بدسلوکی یا ناانصافی کی صورت میں متاثرہ فریق کو علیحدگی کا حق حاصل ہوگا جبکہ 2 سال تک ترک تعلق، شوہر کی جانب سے 6 ماہ تک خرچہ نہ دینے، مذہب کی تبدیلی یا شدید ذہنی بیماری کی صورت میں بھی شادی ختم کی جا سکےگی۔
بل کے تحت اگر متاثرہ فریق 1 سال کے اندر درخواست دائر نہ کرے یا بعد ازاں ازدواجی زندگی جاری رکھے تو کیس مسترد ہو سکتا ہے ۔
بل مزید بحث اور سفارشات کے لیے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا، جہاں تفصیلی جائزے کے بعد اسے حتمی منظوری کے لیے دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔