• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی انخلاء کی دھمکیوں کے بعد یورپی نیٹو کے دفاعی منصوبے پر کام شروع

کراچی (رفیق مانگٹ)امریکا کے ممکنہ انخلا کی دھمکیوں، ایران جنگ پر بڑھتی کشیدگی اور ٹرانس اٹلانٹک اعتماد کے بحران کے درمیان یورپ پہلی بار سنجیدگی سے اپنی دفاعی خودمختاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یورپی ممالک کمانڈ اور کنٹرول میں بڑا کردار سنبھالنے کی تیاری ،منصوبے کا مقصد نیٹو کو بدلنا نہیں ،امریکی کمی کی صورت میں اس کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔نیٹو کے اندر ہی ʼیورپی نیٹوʼجیسے متبادل ڈھانچے پر کام تیز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد امریکی کردار کم ہونے کی صورت میں بھی روس کے خلاف دفاع، جوہری توازن اور سکیورٹی نظام کو برقرار رکھنا ہےاور اس تبدیلی میں جرمنی کا پالیسی یوٹرن فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا کے نیٹو سے ممکنہ انخلا کی صورت میں یورپ کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے نیٹو کے موجودہ فوجی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے ایک متبادل منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جسے جرمنی کی حمایت حاصل ہونے کے بعد تقویت ملی ہے، جو ماضی میں اس طرح کے خودمختار یورپی دفاعی تصور کا مخالف رہا ہے۔ منصوبے پر کام کرنے والے حکام، جسے بعض حلقوں میں یورپی نیٹوکہا جا رہا ہے، اتحاد کے کمانڈ اور کنٹرول ڈھانچے میں یورپی کردار بڑھانے اور امریکی فوجی وسائل کی جگہ اپنی صلاحیتیں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید