• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی حملے کاخدشہ، پاک فضائیہ کا ایرانی وفد کی باحفاظت واپسی کیلئے غیرمعمولی آپریشن، برطانوی میڈیا

کراچی (جنگ نیوز)پاکستان کی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کے بعد ایرانی مذاکرات کاروں کو بحفاظت وطن واپس پہنچانے کیلئے ایک بڑا فضائی آپریشن کیا۔برطانوی خبر ایجنسی کو ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وفد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسرائیل انہیں نشانہ بنا سکتا ہے اس آپریشن کے بارے میں معلومات رکھنے والے دو پاکستانی ذرائع کے مطابق پاکستان نے کوئی دو درجن جیٹ طیارے ایرانی وفد کی بحفاظت وطن واپسی کیلئے تعینات کیے۔ اس کے ساتھ ہی پاک فضائیہ نے فضائی نگرانی کیلئے ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (ایواکس)بھی استعمال کیا تاکہ اسلام آباد سے واپس جانے والے وفد کی سیکورٹی یقینی بنائی جا سکے تاہم تہران کی جانب سے بریف کیے گئے ایک علاقائی سفارتکار نے کہا کہ پاکستان نے اس فضائی حفاظت پر اس وقت اصرار کیا جب ایرانی وفد نے سفر کے دوران کسی ممکنہ خطرے کے فرضی امکان کا ذکر کیا۔کسی امکانی خطرے کے حوالے سے ایرانی وفد کے ساتھ جب وہ سفر کررہے تھے اور پاکستانی ایئر فورس انھیں ایران پہنچانے کیلئے اسکارٹ کر رہا تھا کے بارے میں گفتگو اس سے قبل رپورٹ نہیں کی گئی تھی۔اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے فوری طور پر کمنٹس کی درخواست کا جواب نہیں دیا جبکہ جنیوا میں ایران کے مستقل مشن نے بھی فوری طور پر ردعمل کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ نا ہی پاک فضائیہ اور فوج نے اس آپریشن سے متعلق سوالات کا جواب دیا۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے بھی اس پر تبصرے سے گریز کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ جب مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو ایرانی وفد کو تشویش ہوئی کہ معاملات درست نہیں رہے اور انہیں یہ شبہ تھا کہ شاید انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس ذریعہ نے کہا کہ اگر آپ اس آپریشن کو ایک پائلٹ کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ ایک بہت بڑا آپریشنل مشن تھا۔ آپ ایک ایسے وفد کی ذمہ داری لے رہے تھے جو مذاکرات کیلئے آ رہا ہے، آپ انہیں فضائی تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور آپ کے پاس ایسے طاقتور لڑاکا طیارے موجود ہیں جو کسی بھی خطرے کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید