کراچی(سہیل افضل) پاکستان دنیا کے ان 16ممالک میں شامل ہے جہاں مسافر گاڑیاں، لائٹ کمرشل وہیکلز، ٹرکس اور بسیں تیار کی جاتی ہیں۔ دنیا کے دس بڑے آٹو برانڈز میں سے 7اس وقت پاکستان میں موجود ہیں، جو اسے عالمی آٹو ساز کمپنیوں کیلئے ایک ممکنہ سرمایہ کاری کی منزل بناتے ہیں، انڈس موٹرز آئندہ چار سے پانچ سال کے دوران ملک میں چالیس کروڑ ڈالر کی مزیدسرمایہ کاری کرے گی ،آٹو سیکٹرز بڑی تیزی سے ترقی کر سکتا ہے ۔اگر حکومت 10سالہ کلیئر آٹو پالیسی کا اعلان کرے،ان خیالات کا اظہار پاکستان میں جاپانی گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنی انڈس موٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، علی اصغر جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، پاکستان کی آٹو موٹیو کارکردگی کا علاقائی ممالک سے تقابلی جائزہ پیش کیا، انڈس موٹر کمپنی کی جانب سے منعقدہ ایک صنعتی اجلاس میں میڈیا نمائندگان کو مارکیٹ رجحانات اور پالیسی سمت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے علی اصغر جمالی نے کہا کہ وہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کیلئے بھی تیار ہیں اگرحکومت پانچ کی بجائے 10سالہ کلیئر آٹو پالیسی کا اعلان کرے،انہوںنے پالیسی میں عدم استحکام کو آٹو سیکٹر کی سست روی کی بڑی وجہ قرار دے دیا، اور کہا کہ پیداواری صلاحیت کا استعمال کم ہو گیا15 اپریل 2026: پاکستان کا آٹو موٹیو شعبہ ساختی چیلنجز کا مسلسل سامنا کر رہا ہے جن میں پالیسی میں عدم تسلسل، کم پیداواری صلاحیت کا استعمال اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر بڑھتا ہوا انحصار شامل ہے، ان رکاوٹوں کے باوجود خطے کے ہم عصر ملکوں کے مقابلے میں پاکستانی مارکیٹ نمایاں ترقی کی صلاحیت کی حامل ہے۔علی اصغر جمالی نے ایشیا میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران مارکیٹ رجحانات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کا موازنہ بھارت، فلپائن اور ویتنام سے کیا۔