ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ٹینشن اور ڈپریشن کا علاج کیا ہے؟؟ لوگ کہتے ہیں کہ موسیقی دل کی غذا ہے، میوزک کے دانے دل کو سیراب کر دیتے ہیں اور پیاسے دلوں کی بے چینیوں کو موسیقی کی دھیرے دھیرے اترتی پھوار ہی سکون میں بدل سکتی ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ دنیا کے مشہور گلوکار خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں؟ مشہور مغربی پاپ سنگر ’’مائیکل جیکسن‘‘ کی المناک زندگی اور پراسرار موت کی وجہ کیا تھی؟ وہ شخص جسے سننے کے لیے لاکھوں کروڑوں لوگ ہر وقت بے تاب رہتے تھے، آخر کیوں ٹینشن اور ڈپریشن کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گیا؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ’’ جنید جمشید‘‘ جیسے مشہور گلوکار، خوبرو شخصیت اور ہر دل عزیز سیلیبرٹی، اپنی پوری زندگی اور کیریئر کو چھوڑ کر تبلیغی جماعت سے جا ملے۔ گلی گلی، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ دین کا پیغام پہنچایا، مسجد کی چٹائیوں پر سوئے، لنگر کا کھانا کھایا، اور پھر یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ مسجد کی چٹائیوں پر وہ سکون ملا جو اربوں روپے کی لاگت سے بنے محلات میں بھی نصیب نہ ہو سکا۔ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے، جس نے بے شمار گھر اجاڑ دیے ہیں۔ آئیے! آج ہم اس بیماری کو سمجھتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سے نجات کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ جسم اور روح کا فلسفہ کیا ہے۔ جسم کیا ہے اور روح کیا ہے؟
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں انسان کے جسم کا تعارف یوں کروایا ہے:’’اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔’’(سورۃ المؤمنون12) اسی طرح فرمایا:’’اور ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔‘‘ (سورۃ الحجر26) ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا ہے اور یہ بات سمجھنے کیلئے کسی سائنسی تجربے کی ضرورت نہیں کہ جو چیز جس مادّے سے بنی ہو، اس کی بنیادی ضروریات بھی وہیں سے پوری ہوتی ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا، اس میں پہاڑ رکھ دیے، اور اس میں ہر چیز ایک مقرر انداز سے اگائی، اور تمہارے لیے اور ان کے لیے بھی رزق کے سامان پیدا کیے جنہیں تم رزق نہیں دیتے۔‘‘ (سورۃ الحجر19–20)اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جسم کو پیدا بھی کیا اور اس کی غذا کا انتظام بھی خود فرمایا۔ زمین و آسمان کی ہر مخلوق کے رزق کی ذمہ داری اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لی ہے، اور وہی رازق اور رزّاق ہے۔روح کے بارے میں جب مدینہ منورہ میں یہودیوں کے وفد نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ روح کیا ہے؟تو اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجیے: روح میرے رب کا حکم ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔‘‘(سورۃ بنی اسرائیل 85)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روح اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ہے، جو زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے آئی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اسی روح کو جسم میں ڈال کر انسان کو زندگی عطا فرمائی۔ اگر روح جسم سے نکل جائے تو وہ ایک بے جان لاش بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب روح آسمان سے آئی ہے تو اس کا سکون، اس کا اطمینان اور اس کا قرار بھی آسمان ہی سے آئے گا۔ دنیا کی کوئی مادی چیز روح کو حقیقی سکون نہیں دے سکتی۔جیسے کوئی انجینئر مشین بناتا ہے، اس کے لیے ایندھن مقرر کرتا ہے اور اس کا مینول فراہم کرتا ہے، اگر کوئی اس کے خلاف عمل کرے تو نقصان اس کا اپنا ہوتا ہے، بنانے والے کا نہیں۔بالکل اسی طرح انسان کی روح کو سکون صرف اللّٰہ کی ہدایات پر عمل کرنے سے ہی مل سکتا ہے۔دنیا بھر میں میوزک کنسرٹس، ایئر فونز اور موسیقی کے باوجود دل بے چین کیوں ہیں؟ امریکہ، یورپ، کینیڈا، ناروے اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک جہاں ہر سہولت موجود ہے، وہاں کے لوگ ذہنی دباؤ اور خودکشی کا شکار کیوں ہیں؟ اس لیے کہ موسیقی روح کی غذا نہیں۔اسی حقیقت کو قرآنِ مجید نے یوں بیان فرمایا:’’جو میری یاد سے روگردانی کرے گا، اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی۔‘‘(سورۃ طٰہ 124)ایک اور جگہ ارشاد باری ہے:’’اور کچھ لوگ لہو و لعب کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللّٰہ کے راستے سے بھٹکائیں۔‘‘ (سورۃ لقمان6)فقہ کے بھی جتنے امام ہیں، سب نے موسیقی کو ناجائز قرار دیا۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں:میں بغداد میں ایک ایسی چیز چھوڑ آیا ہوں جسے زندیقوں نے ایجاد کیا ہے، اس کے ذریعے لوگوں کو قرآن سے دور کیا جاتا ہے۔‘‘(تلبیسِ ابلیس) امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں:’’گانا فسق ہے، اس سے لطف اندوز ہونا کفر کے قریب ہے۔‘‘ قرآنِ مجید ہی روح کی اصل غذا ہے۔ اللّٰہ کا کلام سن کر دلوں کو سکون، آنکھوں کو آنسو اور روح کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے قرآن سناؤ۔‘‘ جب سورۃ النساء کی آیت 41پر پہنچے تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:
خار از مہجوریِ قرآن شدی
شکوہ سنج گردشِ دوراں شدی!