• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ میں کرائم اسٹاپرز کا ورلڈ کپ فٹبال پر انسداد گھریلو تشدد مہم کا آغاز

علامتی تصویر۔
علامتی تصویر۔

جمعرات سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ فٹبال کے مقابلوں کے حوالے سے کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے اور لوگوں کی اکثریت مل کر میچز دیکھنے کے پروگرام بھی بنا رہی ہے، لیکن شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے میچ کا دن خوف کی علامت ہوتا ہے۔

جرائم کی انسداد کے لیے کام کرنے والی چیریٹی کرائم اسٹاپرز کے مطابق انگلینڈ کے میچ والے دن گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق، انگلینڈ کے میچ ہارنے کی صورت میں گھریلو تشدد میں 38 فیصد اور جیتنے کی صورت میں 26 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، اگلے روز یہ شرح معمول سے 11 فیصد زائد رہتی ہے۔

کرائم اسٹاپرز نے ورلڈ کپ کے موقع پر ایک قومی مہم کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد عوام کو گھریلو تشدد کی روک تھام میں مدد کے لیے اس کی علامات کو پہچاننے اور گمنام رہ کر معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

چیرٹی کے مطابق ان علامات میں شریکِ حیات یا ساتھی کو دوسروں کے سامنے ذلیل کرنا، حد سے زیادہ کنٹرول یا حسد پر مبنی رویہ، جسم پر نمایاں چوٹوں کے نشانات، دوستوں یا خاندان کے افراد سے دوری اختیار کرنا، یا ذہنی کیفیت میں نمایاں تبدیلیاں، جیسے بے چینی یا ڈپریشن شامل ہیں۔

چیریٹی کے مطابق اس سے مکمل طور پر گمنام رہ کر رابطہ کیا جا سکتا ہے اور فراہم کردہ معلومات تشدد کی روک تھام میں مدد دینے یا ممکنہ طور پر کسی کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

کرائم اسٹاپرز کو ملنے والی معلومات کے سبب روزانہ تقریباً 10 افراد کو گرفتار یا چارج کیا جاتا ہے، 1988 میں قائم ہونے والی اس چیریٹی کو 2.2 ملین ایسی کالز موصول ہوئیں جن پر کارروائی کی گئی۔

ان اطلاعات کے نتیجے میں 162,000 افراد گرفتار یا چارج ہوئے، جبکہ 145 ملین پاؤنڈ مالیت کی مسروقہ اشیا اور 460 ملین پاؤنڈ مالیت کی غیر قانونی منشیات ضبط کی جا چکی ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید