ہالینڈ کے ڈرینٹس میوزیم میں جنوری 2025ء کی صبح سویرے ہونے والی بڑی ڈکیتی کا معمہ بالآخر حل ہو گیا، جہاں چور دروازہ توڑ کر اور دھماکا خیز مواد استعمال کر کے رومانیہ کے قیمتی نوادرات چرا لے گئے تھے۔
حکام کے مطابق چوری ہونے والی اشیاء بازیاب کر لی گئی ہیں جن میں سب سے اہم 2500 سال قدیم سنہری ہیلمٹ ہے جو ڈاشیا سولائزیشن سے تعلق رکھتا ہے اور رومانیہ کے اہم قومی ورثے میں شمار ہوتا ہے، اس کے علاوہ 3 سنہری کنگن بھی چوری کیے گئے تھے۔
زیادہ تر نوادرات بخارسٹ ہینری کوانڈا ایئر پورٹ پہنچائے گئے جہاں سے انہیں سخت سیکیورٹی میں نیشنل ہسٹری میوزیم منتقل کر دیا گیا، انہیں شیشے کے کیس میں مسلح اہلکاروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
یہ کامیابی 14 ماہ طویل تحقیقات، رومانیہ اور ہالینڈ کے درمیان سفارتی رابطوں اور 3 ملزمان کے خلاف جاری مقدمے کے بعد حاصل ہوئی، تاہم ایک سنہری کنگن تاحال لاپتہ ہے۔
میوزیم کے ڈائریکٹر رابرٹ وین لانگ نے کہا ہے کہ اس کی تلاش جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس واقعے نے خاص طور پر رومانیہ کے عوام کو شدید صدمہ پہنچایا، تاہم اب ان کے قومی ورثے کی واپسی پر خوشی اور اطمینان پایا جا رہا ہے۔
چوری کے اس واقعے نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ہیلمٹ کو پگھلا دیا جائے گا، تاہم اس کی شہرت کے باعث اسے فروخت کرنا ممکن نہیں تھا۔
بعد ازاں حکام نے بتایا کہ ہیلمٹ کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ بازیاب ہونے والے کنگن مکمل طور پر محفوظ حالت میں ہیں۔