عالمی موسمی غضبناک صورتِ حال ’ایل نینو‘ کے باعث رواں سال بحرِ اوقیانوس میں سمندری طوفانوں کی تعداد اور شدت میں کمی جبکہ بحرالکاہل میں طوفانی سرگرمی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی موسمی ادارے کا کہنا ہے کہ رواں سال بحرِ اوقیانوس میں معمول سے کم طوفان متوقع ہیں۔
ماہرین نے 55 فیصد امکان ظاہر کیا ہے کہ سمندری طوفانوں کا سیزن معمول سے کم سرگرم رہے گا جبکہ 35 فیصد امکان معمول کے مطابق اور 10 فیصد امکان معمول سے زیادہ سرگرمی کا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایل نینو کے دوران بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں کا سمندری پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے جس سے دنیا بھر کے ہوائی نظام متاثر ہوتے ہیں۔
یہی تبدیلی بحرِ اوقیانوس میں سمندری طوفانوں کی تشکیل کو کمزور جبکہ بحرالکاہل میں مضبوط بناتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایل نینو کے دوران ہوائی، بحرالکاہل کے مشرقی علاقوں اور بعض جزائر کے قریب زیادہ طوفان بن سکتے ہیں جبکہ آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں طوفانوں کی تعداد کم ہونے کا امکان ہے۔
اگرچہ ایل نینو بحرِ اوقیانوس میں طوفانوں کو کم کرتا ہے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف ایک طاقتور طوفان بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے خطرے والے علاقوں میں تیاری ضروری ہے۔
واضح رہے کہ سمندری طوفان، گرد آلود طوفان اور ٹائیفون بنیادی طور پر ایک ہی نوعیت کے طاقتور موسمی نظام ہیں جن کے نام مختلف خطوں کے مطابق رکھے جاتے ہیں۔