امریکی خلائی ادارے ناسا کے روور نے مریخ پر پہلی بار ایسے نامیاتی مرکبات دریافت کیے ہیں جو زمین پر زندگی کی بنیادی ساخت یعنی ڈی این اے کے اجزاء سے مشابہت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سرخ سیارے مارس پر نائٹروجن رکھنے والے مالیکیولز اور بینزوتھیوفین جیسے مرکبات دریافت ہوئے ہیں، جو ڈی این اے بنانے کے بنیادی اجزاء (DNA precursors) سے ملتے جلتے ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر کمیونکیشن میں شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق یہ تجربات مریخ کے گیل کریٹر میں کیے گئے ہیں، جہاں ماضی میں پانی کی موجودگی کے شواہد ملے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بینزوتھیوفین جیسے مرکبات شہابیوں کے ذریعے مختلف سیاروں تک پہنچتے ہیں اور یہی مواد زمین اور مریخ دونوں پر منتقل ہو سکتا ہے، جو زندگی کے آغاز میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کی ماہرِ ارضیات ایمی ولیمز کے مطابق مریخ کی سطح کے قریب محفوظ پیچیدہ نامیاتی مرکبات ماضی میں زندگی کے امکانات کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ناسا نے کیوریوسٹی روور کو 2012ء میں مریخ پر اس مقصد کے تحت بھیجا تھا کہ وہاں مائیکروبیل زندگی کے لیے سازگار حالات کی موجودگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ نئی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ مریخ پر محفوظ نامیاتی کاربن کے ذریعے زندگی کے آثار تلاش کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔