• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی انفلوئینسر کا زیرہ، سونف، اجوائن کا پانی پینے کا 30 روزہ تجربہ کیسا رہا؟

فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا 

ایک بھارتی انفلوئینسر نے سوشل میڈیا پر وائرل دعوؤں سے متاثر ہو کر 30 دن تک صبح خالی پیٹ زیرہ، سونف اور اجوائن کا پانی استعمال کرنے کا تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

انفلوئینسر کے مطابق اس تجربے کا مقصد وزن کم کرنا نہیں بلکہ میٹابولزم اور مجموعی صحت میں بہتری کو جانچنا تھا۔

تیاری کا طریقہ:

انفلوئینسر کے مطابق اس نے ایک ایک کھانے کا چمچ زیرہ، سونف اور اجوائن کو رات بھر پانی میں بھگو دیا اور صبح اسے 5 منٹ ابال کر چھان کر نیم گرم حالت میں پیا۔

پہلا ہفتہ:

انفلوئینسر نے بتایا ہے کہ پہلے ہفتے بھوک میں واضح کمی محسوس کی، دن بھر بھوک کم محسوس ہوئی اور گیس اور پیٹ پھولنے کی شکایت ختم ہوئی۔

دوسرا ہفتہ:

دوسرے ہفتے اس پانی کے نہار منہ استعمال سے تیزابیت میں کمی محسوس ہوئی، خاص طور پر چائے کی عادت کے باوجود خالی پیٹ یہ پانی استعمال کرنے سے فائدہ ہوا۔

تیسرا ہفتہ:

انفلوئینسر نے بتایا ہے کہ اس نے تیسرے ہفتے پانی کے استعمال کے نتیجے میں خود میں توانائی کی سطح میں اضافہ محسوس کیا، جس کی ممکنہ وجہ خون میں شوگر کی سطح کا متوازن رہنا بتایا گیا ہے۔

چوتھا ہفتہ:

انفلوئینسر کے مطابق زیرہ، اجوائن اور سونف کے پانی کے استعمال کے فوائد میں واضح اضافہ دیکھا اور اس سے حاصل ہونے والے مثبت اثرات معمول بن گئے، بھوک میں کمی اور ہاضمے کے فوائد برقرار رہے۔

انفلوئینسر نے اپنی اس پوسٹ کے اختتام پر حاصل ہونے والے مجموعی فوائد سے متعلق بتایا ہے کہ میٹابولزم میں واضح فرق محسوس نہیں ہوا تاہم مجموعی توانائی میں بہتری آئی، ہاضمے کے مسائل جیسے کہ گیس، اپھارہ اور تیزابیت میں واضح کمی ہوئی، جِلد میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور وزن میں بھی معمولی کمی (تقریباً 0.5 سے 1 کلو) اور کپڑوں میں ہلکا ڈھیلاپن محسوس ہوا۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید