کراچی ( سہیل افضل) کاروباری برادری کی رواں مالی سال میں شرح سود سنگل ڈیجٹ میں آنے کی توقعات معدوم ہو گئیں،تقریباً 3سال بعد شرح سود میں کمی کی بجائے اضافہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.50 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا، مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین میں خلل کے باعث مہنگائی بڑھنے کا خدشہ،زرمبادلہ کے ذخائر 15.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جون 2026ء تک 18 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا تخمینہ، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور یورو بانڈز کے اجرا نے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا، مارچ میں عمومی مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی،مزید بڑھنے کا امکان ، اگلی چند سہ ماہیوں میں یہ ہدفی سے اوپر رہے گی، مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 3.8 فیصد نمو ہوئی، جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 1.9 فیصد تھی۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر 27 اپریل کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 100 بیسس پوائنٹ بڑھا کر 11.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا۔ فیصلے کا اطلاق 28 اپریل سے ہوگا۔ کمیٹی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے میکرو اکنامک منظرنامے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔