• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔

ایران کا نیوکلیئر پروگرام

اہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکا چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئر پروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔

یورینیئم ذخائر

یورینیئم کے ذخائر بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، امریکا چاہتا ہے کہ ایران کے تقریباً 400 کلو گرام افزودہ یورینیئم کا مکمل کنٹرول اسے دیا جائے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

 آبنائے ہرمز

دوسری جانب آبنائے ہرمز بھی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران نے پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں اور ان کا خاتمہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔

منجمد اثاثوں کی بحالی

ایرانی حکام نے معاہدے کے لیے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور تقریباً 20 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

نقصانات کا ازالہ

مزید برآں ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 279 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اور بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔

ایران کا علاقائی اثر و رسوخ

علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس معاملہ ہے، جہاں امریکا چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللّٰہ اور غزہ میں حماس سمیت اپنے اتحادیوں کی حمایت محدود کرے، جبکہ ایران اس مؤقف سے متفق نہیں۔

ماہرین کے مطابق ان بنیادی اختلافات کے حل کے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید