پنجاب کی مٹی میں صرف فصلیں نہیں اُگتیں، یہاں خیال بھی جنم لیتا ہے، سوال بھی سانس لیتے ہیں اور علم بھی اپنے لیے راستے تراشتا ہے۔ اس سرزمین کی فضا میں ایک ایسی خاموشی بسی ہوئی ہے جو بظاہر سنائی نہیں دیتی، مگر جب اسے محسوس کیا جائے تو یہ صدیوں کی دانش کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ یہاں دریا صرف پانی نہیں بہاتے بلکہ تہذیب کے عکس لے کر چلتے ہیں، اور ان کے کناروں پر انسان نے ہمیشہ آسمان کو زمین پر اتارنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں عقل نے محض سوچنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خود کو صورت دینے کا ہنر بھی سیکھ لیا۔
مغلیہ عہد کا لاہور ایک ایسا شہر تھا جہاں علم محض مدرسوں اور کتب خانوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ بازاروں، کارخانوں اور کاریگروں کے ہاتھوں میں بھی زندہ تھا۔ وہاں ایک عجیب امتزاج تھا۔جہاں ایک طرف شاعری دلوں کو نرم کرتی تھی، وہیں دوسری طرف ریاضی اور فلکیات ذہنوں کو جلا بخشتی تھیں۔ یہی وہ فضا تھی جس میں قائم محمد اور محمد مقیم جیسے ہنرمندوں نے جنم لیا، جن کے ہاتھوں میں دھات بھی بولتی تھی اور زاویے بھی راز افشا کرتے تھے۔ انہوں نے اسطرلاب کو محض ایک آلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک ایسی کائنات میں بدل دیا جہاں وقت، سمت اور ستارے ایک ہی دائرے میں بند ہو کر اپنا بھید کھولنے لگے۔ان کا بنایا ہوا اسطرلاب گویا ایک خاموش داستان تھا، جس کی ہر لکیر میں ایک سوال پوشیدہ تھا اور ہر نقش میں ایک جواب جھلکتا تھا۔ اس کی تہیں ایسے کھلتی تھیں جیسے کوئی راز دھیرے دھیرے خود کو ظاہر کر رہا ہو۔ دھات کے اس دائرے میں آسمان کی گردش قید تھی، مگر اس کے اندر انسانی ذہن کی پرواز بھی شامل تھی۔ یہ آلہ بتاتا تھا کہ سورج کب طلوع ہوگا، ستارے کس سمت میں جھکیں گے، اور زمین پر کھڑا انسان آسمان کے ساتھ کس رشتے میں بندھا ہوا ہے۔ گویا یہ ایک ایسا آئینہ تھا جس میں انسان اپنی حیثیت بھی دیکھ سکتا تھا اور اپنی وسعت بھی محسوس کر سکتا تھا۔
یہ روایت وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑی بلکہ اس نے اپنی صورت بدل لی۔ جب صدیوں بعد ایک نئی مملکت نے جنم لیا تو اسی سرزمین نے علم کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے جب لاہور میں ایک تجربہ گاہ قائم کی تو گویا انہوں نے اسی پرانی روشنی کو ایک نئی لو دے دی۔ وہاں اب ستاروں کے بجائے ایٹم کے اندر جھانکا جا رہا تھا، مگر جستجو وہی تھی، سوال وہی تھا، اور تلاش بھی وہی تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں روشنی کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی، جہاں توانائی کو سمجھنے کی خواہش نے نئی راہیں کھولیں، اور جہاں ذہنوں کو اس قابل بنایا گیا کہ وہ نامعلوم کو معلوم میں بدل سکیں۔پنجاب کی سائنسی تاریخ دراصل ایک دریا کی مانند ہے، جو کبھی رکتا نہیں، صرف اپنا راستہ بدلتا ہے۔
ایک دور میں یہ دریا فلکیات کے میدانوں سے گزرتا ہے، تو دوسرے دور میں یہی بہاؤ طبیعیات کے سمندر میں جا گرتا ہے۔ عبدالسلام جیسے اہلِ علم نے اس بہاؤ کو عالمی وسعت عطا کی، جبکہ عبدالقدیرخان اور ثمر مبارک مندنے ا سے ایک نئی سمت میں موڑ دیا۔ تاہم اگر غور کیا جائے تو ان سب کے سفر کی ابتدا اسی لمحے سے ہوتی ہے جب ایک کاریگر اپنے ہاتھ میں ایک دھاتی دائرہ اٹھا کر آسمان کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔
قائم محمد اور محمد مقیم کا اسطرلاب صرف ایک آلہ نہیں، ایک عہد کا استعا رہ ہے۔ اس میں وہ تمام خواب محفوظ ہیں جو انسان نے آسمان کو دیکھ کر دیکھے تھے۔ اس کی باریک کاریگری ہمیں یہ بتاتی ہے کہ علم جب حسن کے ساتھ ملتا ہے تو وہ محض مفید نہیں رہتا بلکہ لازوال بن جاتا ہے۔ اس کے اندر درج شہروں کے نام، ستاروں کی نشانیاں اور زاویوں کی ترتیب گویا ایک ایسا نقشہ ہیں جس میں زمین اور آسمان ایک دوسرے سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ یہ آلہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ سادگی میں بھی گہرائی ہو سکتی ہے اور خاموشی میں بھی ایک پوری کائنات چھپی ہو سکتی ہے۔جب یہ اسطرلاب صدیوں بعد کسی دور افتادہ شہر میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ صرف ایک تاریخی شے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ ایک پیغام بن کر ابھرتا ہے۔یہ پیغام کہ اس سرزمین نے ہمیشہ علم کو تخلیق کیا ہے، اسے سنوارا ہے اور اسے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ وقت گزر جاتا ہے مگر وہ ہاتھ جو علم کو صورت دیتے ہیں، ان کی بازگشت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
پنجاب کی سائنسی روایت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ علم کبھی جامد نہیں ہوتا، وہ ایک زندہ شے ہے جو سانس لیتی ہے، بڑھتی ہے اور اپنے آپ کو نئے قالب میں ڈھالتی رہتی ہے۔ یہاں ایک کاریگر کا ہنر اور ایک سائنسدان کی تحقیق دراصل ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔کائنات کو سمجھنا، اس کے رازوں کو کھولنا اور اس فہم کو ایک ایسی صورت دینا جو آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا سبب بنے۔
یہ سرزمین ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ سائنسی تر قی محض آلات اور تجربات کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ ہے، ایک رویہ ہے، ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو مسلسل تلاش پر آمادہ رکھتا ہے۔ یہاں علم نے ہمیشہ اپنے لیے راستہ بنایا ہے، چاہے وہ دھات کے ایک دائرے میں بند ہو یا کسی تجربہ گاہ کی روشنی میں جھلک رہا ہو۔ یہی وہ تسلسل ہے جو پنجاب کو محض ایک خطہ نہیں بلکہ ایک فکری کائنات بنا دیتا ہے، جہاں ہر دور اپنی کہانی لکھتا ہے اور ہر کہانی اپنے اندر ایک نئی دنیا سموئے ہوئے ہوتی ہے۔
( یہ مضمون مدثر اقبال اور صابر رضا کی مانچسٹر ہونے والی پنجاب کانفرنس کےلئے لکھا گیا)