1980ء کی دہائی میں چوری ہونے والا 13 ویں صدی کا ایک قدیم بدھ کا مجسمہ نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں دوبارہ اپنے اصل مندر میں نصب کر دیا گیا، یہ مجسمہ 2022ء میں نیویارک سے واپس لایا گیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق روایتی موسیقی کے ساتھ مجسمے کو پالکی میں رکھ کر مندر تک لایا گیا جہاں مقامی افراد نے خوشی کا اظہار کیا۔
ایک خاتون نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجسمے کی واپسی سے پوری برادری خوش ہے کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقیدے کا اہم حصہ ہے۔
تقریب میں امریکا کے ایک خصوصی نمائندے نے بھی شرکت کی جنہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرتے ہوئے قیمتی نوادرات واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ مجسمہ ایک ثقافتی مرکز میں موجود تھا جہاں اسے ایک نامعلوم راہب نے پیش کیا تھا۔
نیپال میں ماضی میں کئی قیمتی نوادرات غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک منتقل کیے گئے جن میں سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت بھی شامل رہی۔
نیپال کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کے مطابق اب تک تقریباً 200 نوادرات واپس لائے جا چکے ہیں جن میں سے 41 کو ان کی اصل جگہوں پر نصب کیا جا چکا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق 400 سے زائد نوادرات اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ اصل تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے، یہ نوادرات صرف فن پارے نہیں بلکہ زندہ ثقافتی ورثہ ہیں، جن کی واپسی نہایت اہم ہے۔