• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چنیسر گوٹھ سے اغواء کمسن لڑکی کو پولیس ایک ماہ بعد بھی بازیاب نہیں کراسکی

کراچی(مطلوب حسین /اسٹاف رپورٹر) سندھ پولیس چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ،چنیسر گوٹھ سے مبینہ طور پراغواء کی گئی کمسن لڑکی کو پولیس ایک ماہ بعد بھی بازیاب نہیں کراسکی،تفصیلات کے مطابق محمود آباد تھانہ کی حدود چنیسر گوٹھ نورانی مسجد والی گلی سےیکم اپریل 2026 کو 15سالہ صائمہ دختر پوٹو کو مبینہ طور پر فیصل نامی ملزم نے اغواء کیا تھا جس کا مقدمہ الزام نمبر 107/26 تھانہ ہذا میں مغویہ کے ماموں صابرعلی کی مدعیت میں درج کرلیا تھا ،پولیس کی جانب سے ملزم کو فیصل کو گرفتار کئے جانے کے باوجود مغویہ صائمہ کو بازیاب نہیں کرایا جاسکا،مورخہ 20 اپریل 2026 کو ایس ایس پی انوسٹیگیشن Iایسٹ زون کے دفتر سے جاری کئے گئے لیٹر نمبری SP/INV-I/E.Z/RDR/1151/2026میںبتایا گیا کہ مغویہ صائمہ کو ملزمان نے ضلع حیدر آباد کی حدود میں چھپا رکھا ہے ،ملزمان کو گرفتار کرکے مغویہ کی بازیابی کے لئے سب انسپکٹر عدیل حسین ،اے ایس آئی صادق شاہ ،ہیڈ کانسٹیبل قاسم اور لیڈی پولیس کانسٹیبل لاریب پر مبنی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی تاہم لیٹر جاری کئے 12 دن گزرجانے کے باوجود پولیس ٹیم مغویہ کی بازیابی کے لئے حیدرآ باد روانہ نہیں ہوسکی ۔ایس آئی او تھانہ محمود آباد کا کہنا ہے کہ مغوی لڑکی کا نکاح نامہ آچکا ہے پولیس مغویہ کو بازیاب کرانے نہیں جائے گی جبکہ مدعی مقدہمہ کا دعویٰ ہے کہ اسکی بھانجی نابالغ ہے ،اس کا زبردستی نکاح کرایا گیا ہے جو چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی سریحا خلاف ورزی ہے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید