کراچی ( سہیل افضل ) سندھ کابینہ، کابینہ نے پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2026 ء منظوری کے بعد اسمبلی کو بھجوا دیا ، ترمیم کے ذریعے "کاروبار اور انسانی حقوق" کو قانونی دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے، بل میں کارپوریٹ زیادتیوں کے خلاف مؤثر اقدامات شامل کئے گئے ہیں ،مجوزہ ترمیم کے تحت انسانی حقوق کمیشن کو صوبے بھر میں انسانی حقوق کمیشن کے دفاتر قائم کرنےکا اختیار دیا گیا ہے،سابق ججز کو چیئرپرسن مقرر کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی، کا بینہ نے ماہی گیر برادری کے لیے 515 ملین روپے کے فیول سبسڈی پیکیج کی منظوری دی،کراچی میں سڑکوں کی بحالی کےلیے 6.5 ارب روپے کی گرانٹ منظور کر لی گئی، تعلیمی بورڈز کے لیے بھرتی قواعد میں تبدیلی ،کابینہ نے سندھ کے تمام بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے ڈرافٹ ریکروٹمنٹ رولز اینڈ سروس ریگولیشنز 2026 کی منظوری۔چیئرمین، سیکریٹری، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز اور آڈٹ آفیسر جیسے عہدوں پر تقرری اب ایک معیاری سرچ اینڈ سلیکشن کمیٹی کے ذریعے ہوگی ۔ تفصیلات کے مطابق منگل کووزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کابینہ اجلاس نے 30ارب روپے کے ترقیاتی، فلاحی اور اصلاحاتی ایجنڈہ کی منظوری دی ، جس میں انفراسٹرکچر، صحت، طرز حکمرانی، تعلیم اور عوامی ریلیف کے لیے فنڈز، گرانٹس اور ادارہ جاتی اقدامات شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ انتظامی سیکریٹریز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے ساتھ مہنگائی اور معاشی دباؤ سے متاثرہ طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیک وقت انفراسٹرکچر کی بہتری، سماجی تحفظ، صحت کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل گورننس اور ادارہ جاتی مضبوطی پر توجہ دے رہی ہے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔