کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے کراچی میٹرک بورڈ کے امتحانی مراکز میں بے نظمی اور بدانتظامی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کی منظوری دے دی۔ چند روز قبل میڈیا رپورٹس اور طلبہ کی شکایات پر محکمہ جامعات و بورڈز کی جانب سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ میں چیئرمین میٹرک بورڈ، کنٹرولر امتحانات اور دیگر افسران کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی اور معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھیجنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امتحانی مراکز کی فہرست میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ردوبدل کیا گیا۔ امتحانات کے آغاز کے باوجود امتحانی کیلنڈر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 147 مراکز منسوخ جبکہ 117 نئے مراکز قائم کیے گئے، اور یہ تمام تبدیلیاں بغیر کسی قانونی جواز یا مجاز اتھارٹی کی منظوری کے کی گئیں۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ مراکز کے الاٹمنٹ میں مخصوص نجی تعلیمی اداروں کو نوازا گیا، جس کے باعث گنجائش سے زیادہ طلبہ کا دباؤ بڑھا اور نقل کے لیے سہولت کاری کے خدشات پیدا ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات مؤثر نگرانی میں مکمل طور پر ناکام رہے، جس سے امتحانی نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ چیئرمین نے اہم انتظامی اور نگرانی کی ذمہ داریوں میں غفلت برتی، جس کے نتیجے میں امتحانی نظام میں بدانتظامی اور خلل پیدا ہوا۔ وہ اس قدر پیچیدہ ادارے کی قیادت کے لیے درکار صلاحیت سے محروم نظر آتے ہیں چیئرمین میٹرک بورڈ عہدے کے لیے موزوں نہیں ان کی بقیہ مدت ختم کی جائے یا کم انتظامی نوعیت کے عہدے پر تبادلہ کیا جائے جبکہ کنٹرولر امتحانات کو فوری معطل کرکے ان کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ سیکریٹری نوید گجر نے اہم قانونی فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کروایا ان کی پالیسیاں ان کی ناکام گورننس کو ظاہر کرتی ہیں بالواسطہ امتحانی نظام میں بدانتظامی کا باعث بنے۔