• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کینیڈین پاکستانی نوجوان کی کتاب ’’امریکا میں فاشزم‘‘

نیویارک (عظیم ایم میاں)کینیڈین پاکستانی نوجوان کی کتاب’’ امریکا میں فاشز م‘‘ ۔ 35سالہ عمر عزیز جسٹن ٹروڈ کے مشیر اور مارک کارنی کی تقریر میں لکھنے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔تفصیلات کے مطابق کینیڈا اور امریکا کی ممتاز یونیورسٹیوں میں تعلیم و تحقیق کے مراحل مکمل کرنے کے بعد کینیڈین وزیراعظم جسٹسن ٹروڈ کے فارن پالیسی ایڈوا ئزر کے طور پر ذمہ داریاں پوری کرنے والے 35سالہ پاکستانی نژاد کینیڈین عمر عزیز نے امریکا میں فا شزم کے تازہ فروغ (REBIRTH) کے مو ضوع پر اپنی کتاب شائع کرکے امریکا کے عالمی شہرت یافتہ صحافی اور ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘ کے ایسوسی ایٹ آپڑیٹر باب ورڈ اور علمی حلقوں سے خراج تحسین حاصل کرلیا ہے ۔ عالمی شہرت کی حامل امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی کے تاریخی بک اسٹور پر اس کتاب کے ساتھ اسی یونیورسٹی میں فیلو شپ مکمل کرنے والے عمر عزیز 28اپر یل کو موجود تھے ۔ ریڈ کلف انسٹی ٹیوٹ کے علاوہ انہوں نے کینیڈا کی ممتاز کو ئینز یونیورسٹی میں بھی تعلیم حاصل کی اور پھر فرانس کے تعلیمی اداروں میں بھی تعلیم و تر بیت سے استفادہ حاصل کیا جبکہ کیمبرج یونیورسٹی سے ایم فل کرنے کے علاوہ امریکا کی مشہور ییل (YALE) یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کرکے وہ قانون کی تعلیم بھی مکمل کرچکے ہیں ۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پیدا ہونے والے عمر عزیز نے عالمی شہریت یافتہ یونیورسٹیوں ہارورڈ یونیورسٹی سمیت اپنی تمام تر تعلیم اسکا لر شپ اور فیلو شپ حاصل کرکے مکمل کی کیو نکہ وہ ایک پاکستانی ورکنگ فیملی یعنی متو سط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس سے قبل وہ براؤن بوائے (Brown Boy) کے عنوان سے بھی ایک کتاب لکھ کر شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ امریکی ییل یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانہ میں انہوں نے امریکی سابق وزیر خارجہ اور دانشور ڈاکٹر ہنری کسنجر کی آمد پر یونیورسٹی کے اخبار میں ان پر ایک سخت تنقیدی مضمون بھی لکھا جو بڑا زیر بحث رہا۔ صدر ٹرمپ کے موجودہ دور حکومت اور عالمی جنگ کے خطرات کے ماحول میں پاکستانی نژاد 35سالہ عمر عزیز نے ’’امریکہ میں فاشزم کی دوبارہ پیدائش‘‘ کے موضوع پر کتاب شائع کرکے امریکہ کے علمی اور صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اہم خبریں سے مزید