پشاور(ارشد عزیز ملک )یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے جاب فیئر نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے، جہاں 5,800 سے زائد گریجویٹس کو 169 معروف ملکی و بین الاقوامی کمپنیوں سے براہ راست جوڑا گیا۔ اس بڑے روزگار میلے کے نتیجے میں 313 امیدواروں کو فوری ملازمتوں کی پیشکش کی گئی جبکہ آخری سمسٹر کے 400 سے زائد طلبہ کو انٹرن شپ کے مواقع بھی فراہم کیے گئے، جسے تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان ایک مؤثر پل قرار دیا جارہا ہے گزشتہ ایک سال کے دوران یونیورسٹی نے گورننس، تعلیمی معیار، تحقیق اور انڈسٹری پارٹنرشپس میں نمایاں اصلاحات اور پیش رفت کی ہے، جس سے یو ای ٹی پشاور پاکستان اور بیرون ملک ایک جدید اور ترقی پسند ادارے کے طور پر ابھرا ہے۔عہدہ سنبھالنے کے بعد پروفیسر ڈاکٹر خٹک نے یونیورسٹی کو جدیدیت اور شفافیت کی جانب گامزن کیا۔ اہم اقدامات میں ایچ ای سی کے ای آر پی سسٹم، اسٹوڈنٹ لائف سائیکل مینجمنٹ سسٹم (SLCM) اور یونیورسٹی وائیڈ ای-آفس سسٹم کا اجرا شامل ہے، جس سے پیپر لیس، مؤثر انتظامی نظام اور طلبہ کی بہتر سہولیات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر خٹک نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ اس سال یو ای ٹی پشاور نے اپنی رسائی کو مزید بڑھاتے ہوئے ملکی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ایک سو سے زائد مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں، جن کا مقصد تحقیق، اسکالرشپس، انٹرن شپ اور صنعت کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس نے مصنوعات کی کمرشلائزیشن کے لیے 20 ملین روپے کا اعلان کیا۔