امریکی ارب پتی شخصیت جیف بیزوس اور ان کی اہلیہ لورین سانچیز کو میٹ گالا 2026ء میں اعزازی مشترکہ چیئرپرسن بنائے جانے کے بعد شدید تنقید کا سامنا ہے۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بیزوس پر الزام ہے کہ انہوں نے اس ایونٹ میں نمایاں حیثیت حاصل کرنے کے لیے 10 سے 20 ملین ڈالرز خرچ کیے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمل روایتی سرپرستی کے بجائے ثقافتی اثر و رسوخ کی خریداری کے مترادف ہے جس سے امیروں کے بڑھتے ہوئے کنٹرول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سابق ووگ ایونٹ منتظم نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے اس تقریب میں شرکت میرٹ اور تخلیقی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہوتی تھی مگر اب اس کی نوعیت بدل رہی ہے اور یہ زیادہ تر لین دین پر مبنی ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس صورتِ حال پر شوبز اور فیشن انڈسٹری میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے اور کئی معروف شخصیات نے اس سال کے ایونٹ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔