• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیل الرحمٰن قمر نے انمول پنکی سے متعلق کیا کہا؟

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر نے حالیہ وائرل انمول عرف پنکی کیس پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے معاشرے کے طاقتور طبقات اور دہرے معیار پر کھل کر تنقید کی ہے۔

خلیل الرحمٰن قمر نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انمول عرف پنکی سے متعلق سوال پر طنزیہ انداز میں کہا کہ جب انمول پنکی جیسے کام کیے جائیں گے تو رنگ تو پنک ہوں گے، ابھی کئی لوگوں کے رنگ پنک ہونے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اشرافیہ کی برائیوں اور خفیہ سرگرمیوں کو بے نقاب کیا جائے تو لوگ حیران رہ جائیں گے۔

ڈرامہ نگار کا کہنا  ہے کہ اگر ہم ان بڑے لوگوں کی برائیوں کا چٹھہ کھول دیں تو خدا کی قسم ہمارے منہ سے چیخیں نکل جائیں گی۔

خلیل الرحمٰن قمر نے منشیات کے استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت مہنگا نشہ ہے جسے عام آدمی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اس لیے اس قسم کے معاملات میں اکثر بااثر اور طاقتور لوگ ہی سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے کئی معاملات عوام تک مکمل طور پر نہیں پہنچتے کیونکہ اکثر چیزیں بند کمروں میں ہی طے کر لی جاتی ہیں۔

گفتگو کے دوران خلیل الرحمٰن قمر نے ماڈل ایان علی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشرہ بااثر شخصیات کے معاملات پر اکثر مختلف ردِعمل دیتا ہے۔

انہوں نے معاشرتی منافقت اور معاشی مسائل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو دن بھر حب الوطنی کی باتیں کرتے ہیں اور رات کو دوست سے کہتے ہیں کہ پیٹرول بہت مہنگا ہو گیا ہے، ذرا ڈلوا دو۔

خلیل الرحمان قمر نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ قومیں اس وقت زوال کا شکار ہونا شروع ہوتی ہیں جب معاشرے میں سچ، لفظوں اور بامعنی گفتگو کی قدر ختم ہو جائے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید