سیکریٹری انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ پاکستان صنفی عدم مساوات میں دنیا میں 148 ممالک میں آخری نمبر پر ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سیکریٹری نے بتایا کہ وفاقی کابینہ میں صرف ایک خاتون وزیر ہیں، وزیر مملکت اور مشیر کابینہ میں گنے نہیں جاتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سول سروس میں خواتین کی نمائندگی میں بہتری آئی ہے، پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین کا ریکارڈ رکھا نہیں جاتا، بچیوں کا پرائمری کے بعد اسکول ڈراپ آؤٹ ریٹ بہت زیادہ ہے۔
سیکریٹری انسانی حقوق نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں ریپ کیسز میں سزا کا تناسب سندھ میں 22 فیصد، بلوچستان میں 12 فیصد اور پنجاب میں 4 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
دورانِ اجلاس کمیٹی چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری نے قتل، اغوا اور زیادتی کے بڑھتے واقعات پر برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں تو سیف سٹی کیمرے ہیں، بتایا جائے سیکیورٹی ہے، تو کیوں یہاں سے لوگ اغوا ہورہے ہیں؟
کمیٹی نے اسلام آباد سے اغوا کے بعد قتل کیے گئے فرخ افضل کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے 48 گھنٹے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔