اسلام آباد ( طاہر خلیل )پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ معرکہ حق میں ہم نےاپنی طاقت کی صرف ایک قسط دکھائی ہے‘ پاکستان نے واضح طور پر ڈیٹرینس قائم کیا‘ جنگ کا زاویہ بدل دیااوربھارتی غرور خاک میں ملایا‘ہم تب بھی تیار تھے‘ اب بھی تیار ہیں،کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لاسکتا‘دوجوہری ریاستوںکے درمیان جنگ پاگل پن ہے‘اس لڑائی میں جو کچھ انڈیا نے دیکھا وہ ہمارا مجموعی طاقت کا 10 سے 15 فیصد تھا‘اس 14 اگست کو پاکستانی قوم کے لیے بہت بڑا سرپرائز ہے‘یوم آزادی پر عظیم الشان پریڈ ہو گی‘ اپنی طاقت کی ایک چھوٹی سی جھلک دوبارہ عوام کو دکھائیں گے ‘مقصد یہ ہے کہ بعد میں بھارتی یہ نہ کہیں کہ ہمیں بتایا نہیں تھا‘یہ سندور سے نکلتے کیوں نہیں‘ سندور تو خواتین کو لگایا جاتا ہے‘ ایک پاکستان اور دوسرا فیلڈ مارشل دن رات بھارت کے خواب میں آتے ہیں‘ سعودی عرب کو خطرہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہے‘کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا‘پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘ بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے‘وہ انہوں نے آپس میں کرنا ہے‘ ہم تو کہتے ہیں سیاست دان اپنے معاملات بات چیت سے حل کریں۔بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے‘دنیا انڈیا کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں‘بھارتی سیاستداں مدبر کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں‘ ہمیں خود پر اور قوم پر بھروسہ ہے، قوم کو بھی ہم پر بھروسہ ہے ، کسی میں جرات نہیں کہ فوج اور عوام کے درمیان آسکے‘دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘ پاکستان کا سادہ سا مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے‘ افغان طالبان رجیم بطور ریاست برتا نہیں کررہی جبکہ پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف پروجیکٹس ائیر وائس مارشل طارق غازی کاکہنا ہے کہ ہم نے آپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کے 8 طیارے گرائے اور اب ہم 8 صفر پر ہیں، بھارت کے گرائے گئے جہازوں میں 4 رافیل، ایس یو 30، مگ 29 اور میراج 2000 شامل ہے، اس کے علاوہ ایک انتہائی مہنگا کثیرالجہتی خود کار ائیرل سسٹم بھی تباہ کیا۔ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک فضائیہ اور بحریہ کے افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا معرکہ حق میں اللہ کے فضل سے مسلح افواج قوم کی امنگوں پر پورا اتری۔ہم نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شکست دی‘ابھی ہم نے ملٹی پل ڈومین میں ایک چھوٹی سے جھلک دکھائی ہے‘اب کی بار ہم پیچھے سے حساب شروع کریں گےجہاں سے ان کا آغاز ہوتا ہے، وہاں سے جب ہم برابرکرتے آئیں گے تو آئندہ یہ کراچی کا نام لیتے ہوئے گھبرائیں گے، کسی کی ذہن میں اگر کوئی خوش فہمی ہے تو انہیں سمجھانا ہمارے لیے منٹوں کا کام ہے‘ان کی پراکسیوں سے لڑتے ہوئے ہمیں دہائیاں ہوگئیں ۔گندی زبان سے کراچی کانام لیں‘دیکھیں پھر کراچی والےان کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں‘بھارت بتائے کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا‘کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازع ہے۔اگر یہی زبان استعمال کرنی ہے تو پھر آؤ سامنے‘ہم کھڑے ہیں اور بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں کی جنگ ہے‘پاکستان کی سلامتی اور دفاع کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ پاکستان کو سعودی عرب اور سعودی عرب کو پاکستان کی سکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے‘ حرمین شریفین کی حفاظت سعودی عرب کی قومی سلامتی سے جڑی ہے‘ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘ان حلیے آپ کو اسلامی نظر آئیں گے لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔