• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی بندرگاہ، جزیرے پر امریکی حملہ، تہران کی جوابی کارروائی، میزائل فائر

تہران/دبئی (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) فوکس نیوز کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایرانی جزیرے قشم اور بندرعباس میں پورٹ پرحملہ کیاہے تاہم ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی ہے ‘ ادھرایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک فوجی افسر کے حوالے سے رپورٹ دی کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی ٹینکر پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں دشمن کے یونٹس کو ایرانی میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ نقصان اٹھانے کے بعد فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ہرمز کے قریب تین امریکی جنگی جہازوں کو ایرانی بحریہ نے نشانہ بنایا ہےجبکہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے بندر عباس اور قشم کی فضائی حدود میں دشمن کے دوڈرون طیاروں کو تباہ کر دیا ہے۔پاسداران انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ اگر ان حملوں کے پیچھے متحدہ عرب امارات کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اسے اپنی اس معاندانہ کارروائی کی بھارتی قیمت چکانی پڑے گی۔ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کے مطابق واشنگٹن نے ایرانی آئل ٹینکر اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک اور جہاز کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے ہرمز میں قشم جزیرے پر دھماکوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہوئے۔آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا کہ جزیرہ قشم پر بہمن گھاٹ پر ہونے والے دھماکے ایرانی مسلح افواج اور دشمن کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہوئےجبکہ اسرائیلی فوج کاکہنا ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی حملے سے باخبر نہیں ہے۔نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق دو سینئر ایرانی حکام نے بتایا کہ عرب امارات نے جزیرہ قشم میں تین مقامات پر حملہ کیا ہے ۔رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ امارات نے جزیرہ قشم کے بہمن گھاٹ، جزیرے پر جہاز سازی کی ایک سہولت اور بندر عباس میں ایرانی فضائیہ کے ایک اڈے پر بمباری کی۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو دوبحری جہاز امریکی بحری ناکہ بندی توڑ کر خلیج میں داخل ہوگئے جبکہ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکی رویہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے‘ دوبار بات چیت کے دوران جارحیت کی گئی ‘تہران واشنگٹن پر اعتبار نہیں کرسکتا‘رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی کاکہنا ہے کہ ایران جوہری معاملے پر کسی سے مذاکرات نہیں کرے گا ‘ہرمز ایرانی کنٹرول میں ہی رہنی چاہئے ‘ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ ایران پاکستان کے ذریعے آنے والے پیغامات کا جائزہ لے رہا ہے اور اس نے اب تک امریکا کو کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ انہوںنے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہےجو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔

اہم خبریں سے مزید