کراچی (رفیق مانگٹ) اسرائیلی فوج کی طرف سے مذہبی علامات اور شخصیات کی بے حرمتی جاری، اسرائیلی فوجی کو حضرت مریمؑ سے منسوب مجسمے کی بےحرمتی کی۔ فضائی کارروائیوں میں کیتھولک عبادت گاہ کو نقصان، اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰؑ سے منسوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی ویڈیو، یروشلم میں فرانسیسی راہبہ پر حملہ کیا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے مذہبی علامات اور شخصیات کی بے حرمتی کے متعدد حالیہ واقعات نے عالمی سطح پر تشویش اور غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تصویر چند ہفتے قبل ایک عیسائی اکثریتی گاؤں میں لی گئی، تاہم حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس نے عالمی توجہ حاصل کی۔ اسرائیلی فوجی حکام نے اس عمل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کا جائزہ لے رہے ہیں اور ملوث اہلکار کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ واقعہ کسی ایک الگ تھلگ پیش رفت کا حصہ نہیں بلکہ حالیہ ہفتوں میں اسی نوعیت کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جنوبی لبنان کے ہی علاقے میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی، جس کی اسرائیلی حکام نے تصدیق کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کو سزا بھی دی۔