کراچی( ثاقب صغیر،اسٹاف رپورٹر )این سی سی آئی اے کراچی نے غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 7ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ايجنسی کراچی کے مطابق ڈی ایچ اے فیز ٹو ایکسٹینشن میں ایک چھاپہ مار کارروائی میں ایک منظم غیر قانونی کال سینٹر کو بے نقاب کیا گیا۔کارروائی کے دورانہ انکشاف ہوا کہ کال سینٹر کے ایجنٹس غیر ملکی بینکوں کے عملے کا روپ دھار کر اسپوفنگ کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ غیر قانونی کال سینٹر غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنا رہا تھا اور جعلی طور پر بینک نمائندے بن کر حساس معلومات حاصل کر رہا تھا جن میں سوشل سیکیورٹی نمبرز، فون نمبرز، تاریخ پیدائش، والدہ کا نام اور سی وی وی کوڈز شامل ہیں۔ حاصل کردہ ڈیٹا مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر مرچنٹ اکاؤنٹس پر چارجز کرنے اور مالی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔چھاپے کے دوران 10 لیپ ٹاپس، 6 موبائل فونز اور ہزاروں غیر ملکی شہریوں کا بینکنگ ڈیٹا سمیت متعدد ڈیجیٹل آلات اور شواہد برآمد کیے گئے۔تمام آلات اور متعلقہ شواہد موقع پر ہی ضبط کر لیے گئے ہیں۔سات ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جنہیں گرفتار کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔ ضبط شدہ سامان کو تکنیکی تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر نمبر 32/26 درج کی گئی ہے جو سیکشنز 3، 4، 13، 14، 16 اور 26 پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت ہے، ساتھ ہی پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 34 اور 109 بھی شامل کی گئی ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 40سے زائد ایجنٹس کو حراست میں لے لیا۔چھاپہ رات گئے گلشن اقبال بلاک 4مبینہ ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے قریب مارا گیا۔حکام کے مطابق کال سینٹر کے ایجنٹس غیر ملکی بینکوں کے عملے کا روپ دھار کر اسپوفنگ کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو دھوکہ دے رہے تھے اور جعلی طور پر بینک نمائندے بن کر حساس معلومات حاصل کر رہے تھے اور ان معلومات کے ذریعے مالی فوائد حاصل کر رہے تھے۔حکام کے مطابق کافی عرصے سے یہ کام چل رہا تھا۔اس حوالے سے رات گئے تک کارروائی جاری تھی۔