امریکہ، ایران اور کچھ دیگر ممالک کو اپنا نمبرون دشمن قرار دے رہا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس کا نمبرون دشمن ، اس کا نمبرون لاڈلا یعنی اسرائیل ثابت ہوا ہے ۔ اسی اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکہ کو ایران جنگ پر آمادہ کیا اور جس نے امریکہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کو بھی غیرمعمولی نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن ابھی جنگ کے خاتمے سے قبل کئی محاذوں پر امریکہ کو بھی غیرمعمولی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ پہلا نقصان تو اسے یہ اٹھانا پڑا ہے کہ اسکی اخلاقی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔ اس جنگ کیلئے نہ تواقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی اجازت لی گئی اور نہ نیٹو وغیرہ کی ۔ پھر جس طرح ابتدا میں جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہیدکیاگیا یاجس طرح سکول کی ڈیڑھ سو بچیوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا ، اس سے امریکہ کی اخلاقی ساکھ بہت متاثر ہوئی۔ ماضی میں امریکہ انسانی حقوق کی پامالی کی بنیاد پر دیگر ممالک کو بلیک میل کرتا رہا لیکن سوال یہ ہے کہ اس بربریت کے بعد وہ کس منہ سے بین الاقوامی قوانین کا تذکرہ کرئیگایا کسی ملک کو انسانی حقوق کی پائمالی کا ذمہ دار قرار دئیگا؟امریکہ کو دوسرا نقصان یہ پہنچا کہ وہ نیٹو کی حمایت سے محروم ہوگیا ۔ ساتھ نہ دینے پر غصے میں آکر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے خلاف جو بیانات دئے ، اسکے بعد اب مستقبل میں نیٹو اور امریکہ کی بات بنتی نظر نہیں آتی۔ اس میں دو روائے نہیں کہ نیٹو میں زیادہ حصہ امریکہ کا تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نیٹو کو زیادہ استعمال بھی امریکہ نے کیا ۔ امریکہ کے مقابلے میں چھوٹے سہی لیکن نیٹو میں درجنوں ممالک شامل ہیں اور انکے اتحاد سے امریکہ جو کچھ بھی چاہتا ، اس کا وزن بڑھ جاتا۔ایک بڑا نقصان امریکہ کو یہ ہوا کہ اسکے ناقابل شکست سپرپاور ہونے کا بھرم ٹوٹ گیا۔جب دنیا نے دیکھا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران جیسے ملک کو بھی نہیں جھکا سکا تو اس کی نظروں میں اس کی فوجی صلاحیت سے متعلق بھی سوالات جنم لینے لگے ۔گزشتہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران جب امریکی بی باون جہازوں نے ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو دعویٰ کیا تھا کہ سب کچھ تباہ کردیا گیا لیکن اب دوبارہ اسی افزودہ یورینیم کے پیچھے ایران پر حملہ آور ہوئے لیکن ڈیڑھ ماہ کی جنگ کے باوجود ایران کو اس طرح کی ڈیل کیلئے بھی آمادہ نہ کرسکے جسطرح کی ڈیل ایران نے اوبامہ انتظامیہ کے ساتھ کی تھی۔ ایران جنگ سے امریکہ کو ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس نے اپنی سیکورٹی کیلئے خلیجی ممالک کے اعتماد کو مجروح کیا ۔ سعودی عرب، عمان، یواے ای، قطر، بحرین اور کویت نے اس امید پر اپنے ملکوں میں امریکہ کو اڈے دئے تھے کہ کسی بیرونی خطرے کی صورت میں امریکہ ان کا دفاع کرئیگا لیکن معاملہ الٹ ثابت ہوا۔ ایران نے اس بنیاد پر ان ممالک کو نشانہ بنانا شروع کیاکہ انہوں نے امریکہ کو اڈے کیوں دئے ہوئے ہیں۔پھر ایران ان پر میزائیل اور ڈرون برساتا رہا اور امریکہ تماشہ دیکھتا رہا۔ امریکہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کے فراہم کردہ دفاعی نظام کی وجہ سے ان ممالک کا نقصان کم ہوا لیکن بہرحال انکے ہاں جنگ کی مصیبت بھی امریکہ اور اسرائیل کی وجہ سے آئی جبکہ یہ دفاعی سامان ان ممالک نے امریکہ کو پیسے دے کر خریدا ہے۔ان وجوہات کی بنا پر اب خلیجی ممالک اپنے دفاع کیلئے مشکل سے امریکہ پر تکیہ کریں گے اور لامحالہ وہ اس مقصدکیلئے دیگر ممالک سے رجوع کریں گے ۔ اگرچہ سعودی عرب نے ایران جنگ سے قبل بھی امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے لیکن اب مغربی میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ پروجیکٹ فریڈم (جسکے تحت امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سمندری جہازوں کو اپنی سیکورٹی میں آبنائے ہر مز پار کرائے گا اور اس منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں جنگ بندی کے خاتمے کا امکان تھا) پر اگر ڈونلڈٹرمپ عمل درآمد نہ کرواسکا تو اسکی ایک وجہ پاکستان کی طرف سے اسکے خاتمے کا مطالبہ تھا تو دوسری طرف محمد بن سلمان نے امریکہ کو اپنے اڈوں اور فضائی حدود کو استعمال کرنے سے انکار کیا تھا۔ایران جنگ کی وجہ سے ایک نقصان یوکرائن کو پہنچا۔ یورپ کی سیکورٹی ترجیحات میں یوکرائن سرفہرست ہے اور ایران جنگ سے قبل امریکہ یورپ کے ساتھ مل کر اسے روس کے مقابلے میں مدد فراہم کررہا تھا۔ لیکن ایران جنگ کی وجہ سے توجہ یوکرائن جنگ سے ہٹ گئی جبکہ دوسری طرف امریکہ اور یورپ کے مابین جتنے فاصلے پیدا ہوگئے اسکے بعد یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ ماضی کی طرح وہ ہم آہنگی کے ساتھ یوکرائن کی مدد کرسکیں گے ۔ایران جنگ کا امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ انکے حریف روس کو اسکا بہت فائدہ ہوا۔جس طرح کہ پہلے عرض کیا گیا کہ ایک طرف یوکرائن جنگ سے توجہ ہٹ گئی جو روس کیلئے فائدے کی بات تھی تو دوسری طرف مجبور ہو کر امریکہ نے مارکیٹ میں تیل کی قلت سے بچنے کیلئے روس سے تیل کی درآمد کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ تیل مہنگا بھی ہو گیا تھا اس لئے روس نے تیل بیچ بیچ کر خوب پیسے کمائے ۔ایران جنگ کا پوری دنیا کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا۔ یورپ اور ایشیائی ممالک میں تیل کی قیمتیں بڑھ جانے کی وجہ سے مہنگائی کے سیلاب آئے ۔ امریکہ چونکہ تیل میں خوکفیل ہے اور اب اس نے وینزویلا کے تیل پر بھی قبضہ کر لیا ہے ، اس لئے وہاں ایشیا اور یورپ جتنا فرق نہیں پڑا لیکن پھر بھی وہاں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا۔کورونا کے بعد اس بڑے پیمانے پر ہونے والی کساد بازاری کیلئے پوری دنیا ٹرمپ کو ذمہ دارقرار دے رہی ہے ۔یہ تو وہ نقصانات تھے جو دنیا اور امریکہ کو ایران جنگ کے نتیجے میں پہنچے لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود ٹرمپ کی ذات کو بہت نقصان پہنچا۔انہوں نے جو بیانات دئے اور جو ٹویٹس کئے انکی وجہ سے وہ ایک غیرسنجیدہ، جھوٹے، سفاک اور مسخرے کے طور پر مشہور ہوئے ۔ یہ جنگ شروع دن سے مقبول جنگ نہیں تھی جبکہ ٹرمپ نے کانگریس سے بھی منظوری نہیں لی تھی لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ وہ مزیدغیرمقبول ہوتی گئی اور اس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔