• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹر لنڈسے گراہم کی تنقید مسترد، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان نے حالیہ ایران جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستانی قیادت ’بہترین‘ کام کر رہی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نےپاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران اپنے فوجی اثاثے پاکستانی اڈوں پر محفوظ کر رہا ہے تو پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں۔

الجزیرہ کے مطابق امریکی سینیٹر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب امریکی میڈیا میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان ایران کے بعض فوجی طیاروں اور اثاثوں کو اپنے ایئر بیسز پر جگہ دے رہا ہے تاکہ انہیں ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملوں سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب پاکستان نے ایرانی طیاروں کی موجودگی کے حوالے سے امریکی ٹی وی سی بی ایس نیوز کی رپورٹ مسترد کر دی تھی۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ گمراہ کُن اور سنسنی خیز قرار دے کر مسترد کی۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسے قیاس آرائی پر مبنی بیانیے کا مقصد علاقائی استحکام اور امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی دور کے دوران ایران اور امریکا سے متعدد طیارے پاکستان پہنچے تھے، تاکہ مذاکراتی عمل سے منسلک سفارتی عملے، سیکیورٹی کی ٹیموں اور انتظامی عملے کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق کچھ ہوائی جہاز اور امدادی اہلکار پاکستان میں عارضی طور پر مصروفیت کے بعد متوقع دوروں کی وجہ سے موجود رہے، اگرچہ باضابطہ مذاکرات ابھی تک دوبارہ شروع نہیں ہوئے ہیں، تاہم اعلیٰ سطح کے سفارتی تبادلے جاری ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس تناظر میں ایرانی وزیرِ خارجہ کے دورۂ اسلام آباد کو موجودہ لاجسٹک اور انتظامی انتظامات کے ذریعے سہولت فراہم کی گئی۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں کھڑا ایرانی طیارہ جنگ بندی کی مدت کے دوران پہنچا جس کا کسی بھی فوجی ہنگامی صورتِ حال یا تحفظ کے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اس کے برعکس دعوے قیاس آرائی، گمراہ کن اور حقائق سے مکمل طور پر متصادم ہیں، پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیری اور ذمے دار سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے، پاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ لنڈسے گراہم ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والے رہنما سمجھے جاتے ہیں اور وہ ٹرمپ پر ایران کے خلاف مزید سخت پالیسی اپنانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔

ادھر پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان رکی ہوئی سفارت کاری بحال کروانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ایران کی جانب سے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط کے بعد مذاکراتی پیش رفت ایک بار پھر تعطل کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید