کراچی ( سہیل افضل ) سندھ میں پہلی بار محکمہ خوراک کے بااثر افسران کے خلاف بڑی کاروائی،کئی برس سے تعطل کا شکار انکوائریز مکمل ، اربوں روپے کی سرکاری گندم میں کرپشن، غبن اور ذخائر میں خردبرد کے سنگین معاملات پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ، لاڑکانہ،قمبر شہداد کوٹ،جیکب آباد،کشمور ،کوٹری ،کندھ کوٹ اور نوشہرہ فیروز سے تعلق رکھنے والے افسران ملازمت سے برطرف ، وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک سندھ میں بدعنوانی، غبن اور سرکاری گندم کے اسٹاک میں خردبرد کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،اس سلسلے میں کسی قسم کا دباو قبول نہیں کیا جائے گا ،تفصیلات کے مطابق وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کی ہدایت پر محکمہ خوراک سندھ میں بدعنوانی، غبن، سرکاری گندم کے ذخائر میں خردبرد، ناقص نگرانی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان پہنچانے کے سنگین معاملات پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے متعدد افسران کو ملازمت سے برطرف، کئی ذمہ دار اہلکاروں کو فائنل شوکاز نوٹس جاری اور متعلقہ حکام کو مقدمات درج کرنے سمیت سرکاری نقصان کی ریکوری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے سندھ سول سرونٹس ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1973 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں تعینات فوڈ انسپکٹرز اور افسران کے خلاف سخت محکمانہ ایکشن لیا گیا ہے۔ محکمانہ احکامات کے مطابق ضلع قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ فوڈ ریجن کے فوڈ انسپکٹر امان اللہ مگسی کو WPC قبو سعید خان میں فصل 2022-23 کے دوران 65 ہزار 393 گندم کے 100 کلوگرام تھیلوں کی خردبرد اور کمی کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ محکمانہ ریکارڈ کے مطابق اس کیس میں سرکاری نقصان 867.111 ملین روپے جبکہ مارک اَپ 327.985 ملین روپے ظاہر کیا گیا، جس کے بعد مجموعی واجب الادا رقم ایک ارب 195 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ متعلقہ حکام کو سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت رقم کی وصولی کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔ ایک اور اہم کارروائی میں ضلع جیکب آباد، لاڑکانہ فوڈ ریجن کے فوڈ سپروائزر اور انچارج PRC ٹھل زیب علی مگسی کو سرکاری گندم کے 37 ہزار 207 پی پی بیگز میں کمی، جبکہ 17 ہزار 533 پی پی بیگز میں مٹی، گرد و غبار اور خراب دانوں کی آمیزش ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔