• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین ہرمز کھولنے میں مدد دے گا، ٹرمپ، ایران کو اسلحہ بھی نہیں دے گا

بیجنگ (اے ایف پی /نیوزڈیسک )بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے موقع پر آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر نئے حملے ہوئے ہیں‘ایران نے مبینہ طور پر اسلحے سے بھرا جہاز ضبط کر لیاجبکہ عمان کے ساحل کے قریب بھارتی جہازکو ڈبودیاگیا‘ انڈیانے بحری جہاز پر ہونے والے حملے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ ان کی بحری افواج نے گزشتہ رات سے متعدد چینی آئل ٹینکرزکو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ٹرمپ کے دورہ چین سے متعلق جاری بیان میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا چاہیے اورتہران کے پاس ہرگز جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں تاہم چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال‘ یوکرین جنگ اورتائیوان کے معاملات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ادھرصدرٹرمپ نے جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ چینی صدرنے تہران کو اسلحہ نہ دینے کا وعدہ اورآبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے‘ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ بیجنگ نے امریکی کمپنی بوئنگ سے 200جیٹ طیارے خریدنےپر اتفاق کیا ہے جبکہ صدر شی نے اپنے امریکی ہم منصب کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر کسی بھی غلط قدم سے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ ہے‘واشنگٹن اور بیجنگ کو حریف نہیں بلکہ پارٹنر بنناچاہئے‘چین دنیا کے لیے مزید دروازے کھولے گا۔ادھربھارت میں برکس اجلاس اختلافات کا شکار ہوگیا،ایران اور امارات میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا‘عباس عراقچی کا کہنا تھاکہ یو اے ای ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی جارحیت میں براہ راست شامل تھا اور حملوں کے آغاز پر مذمت تک نہیں کی‘عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ اپنے اتحاد پر نظرثانی کرنی چاہئے ۔ امارات نےنیتن یاہو کے دورے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی کم کرنے اور علاقائی استحکام کے حق میں ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیونے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چین کو ایران پردباؤڈالنے کیلئے قائل کرلیں گے ‘ وائٹ ہاؤس نے یہ حیران کن دعویٰ بھی کیا کہ صدر شی جن پنگ نے مستقبل میں آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے امریکا سے مزید تیل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاہم بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ ملاقات کے احوال میں ایسی کسی دلچسپی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دوروزہ دورے پر چین پہنچنے والے ٹرمپ نے اپنے میزبان صدرشی جن پنگ کو ایک عظیم رہنما اور دوست قرار دیتے ہوئے انہیں ستمبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی تاہم بیجنگ کے پُرشکوہ استقبال کے باوجود صدر شی کا لہجہ خاصا محتاط رہا۔ چینی صدرنے زور دیا کہ دونوں ممالک کو حریف کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے اور فوری طور پر تائیوان کے حساس معاملے کو اٹھایا جسے بیجنگ اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔چینی سرکاری میڈیا کے مطابق دونو ں رہنماؤں کے درمیان دو گھنٹے پندرہ منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت کے آغاز میں صدر شی نے کہاکہ تائیوان کا معاملہ امریکا چین تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔ اگر اسے غلط طریقے سے نمٹایا گیا تو دونوں قومیں آپس میں ٹکرا سکتی ہیں یا ان کے درمیان تنازع پیدا ہو سکتا ہے جس سے دوطرفہ تعلقات انتہائی خطرناک صورتحال میں گھر جائیں گے۔اے ایف پی کے مطابق صدشی جن پنگ نے جمعرات کو بیجنگ میں امریکا چین مذاکرات کے دوران امریکی کاروباری شخصیات کے وفد کو بتایا کہ چین دنیا کے لیے مزید دروازے کھولے گا۔صدر شی نے کہا کہ بیرونی دنیا کے لیے چین کے دروازے مزید کھلتے جائیں گے اور امریکی کمپنیوں کو چین میں مزید روشن امکانات میسر آئیں گے۔صدر ٹرمپ جو استقبالیہ تقریب سے کافی محظوظ نظر آئے، انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ چین اور امریکا کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہونے والے ہیں۔رات کو ایک سرکاری عشائیے میں چینی صدر نے قدرے مفاہمانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ چینی قوم کا احیاء اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا مکمل طور پر ایک ساتھ چل سکتے ہیں اور اس سے پوری دنیا کی فلاح و بہبود وابستہ ہے۔ صدرشی سے ملاقات کے بعد فاکس نیوز کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیاکہ شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے چین کی بھرپور مدد کی پیشکش کی ہے اور اس بات کا پختہ عہد کیا ہے کہ بیجنگ جنگ میں ایران کو کسی قسم کا فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ چینی صدر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کی بندش پر بھی فکر مند ہیں۔وہ ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں ۔

اہم خبریں سے مزید