کراچی (بابر علی اعوان)عدالتی احکامات و سروس رولز کی خلاف ورزی، جونیئر افسر ایڈیشنل سیکریٹری تعینات۔ گریڈ 18کے جونیئر افسر عبداللہ ڈاہری جو 19گریڈ کے پروموشن زون میں بھی شامل نہیں، تعیناتی پر سوالات۔ اس حوالے سے موقف جاننے کیلئے سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی سے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر فائل کئے جانے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ نے عدالتی احکامات اور سروس رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گریڈ 18 کے ایک جونیئر افسر کو گریڈ 19 کی اہم انتظامی اسامی پر تعینات کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پراونشل سیکریٹریٹ سروس کے گریڈ 18 کے افسر عبداللہ ڈاہری کو سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ کے 23 اپریل 2026ء کے نوٹیفکیشن کے تحت محکمہ صحت میں ڈپٹی سیکریٹری (گریڈ 18) کے طور پر جوائن کرنے کی اجازت دی گئی اور جوائننگ کے فوراً بعد انہیں ایڈیشنل سیکریٹری (ایڈمن ٹو) تعینات کر دیا گیا۔ محکمہ صحت کا مذکورہ نوٹیفکیشن 28 اپریل 2026ء کو جاری کیا گیا۔ واضح رہے کہ ایڈیشنل سیکریٹری کا عہدہ گریڈ 19کے افسران کے لئے مختص ہے جبکہ عبداللہ ڈاہری گریڈ 18 کے افسر ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ متعدد مقدمات میں کم گریڈ کے افسران کو مستقل طور پر اعلیٰ گریڈ کی اسامیوں پر تعینات کرنے کے خلاف احکامات جاری کر چکی ہیں، تاہم اس کے باوجود محکمہ صحت میں یہ تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض مواقع پر گریڈ 18 کے افسران کو گریڈ 19 کی اسامیوں پر تعینات کیا گیا تاہم عموماً ایسے افسران سنیارٹی کی بنیاد پر پروموشن زون میں شامل ہوتے ہیں اور ان کی ترقی متوقع ہوتی ہے۔ اس کے برعکس عبداللہ ڈاہری نہ صرف گریڈ 18 میں ہیں بلکہ اپنی سنیارٹی کے اعتبار سے بھی جونیئر افسر شمار ہوتے ہیں اور ان سے سینئر گریڈ 18 افسران موجود ہیں جو سنیارٹی لسٹ میں ان سے اوپر ہیں۔ محکمہ صحت کے حلقے اس اقدام کو میرٹ اور سنیارٹی کے اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایسی غیر معمولی تعیناتی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔