تہران /بیجنگ (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نےکاکہنا ہے کہ تہران کوامریکا پر اعتماد نہیں ‘پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ مشکلات کا شکار ہےاس کی وجہ بھی امریکی رویہ ہے‘کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہیں‘مذاکرات اور جنگ دونوں کیلئے تیار ہیں‘انڈیا فیصلہ کر لے کہ اسے ہمارے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھنا ہے‘افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی ماسکو کی پیشکش کے بارے میں روسی حکام سے بات چیت کی ہے۔دوسری جانب صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ایران کے ساتھ جنگ پاکستان کے کہنے پر ایک ’’فیور‘‘کے طورپر کی‘ میں اس کے حق میں نہیں تھا‘پاکستانی شاندار لوگ ہیں‘ ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں‘تہران کے معاملے پر میں اب مزید صبر کرنے والا نہیں ‘انہیں معاہدہ کر لینا چاہیے‘ بیجنگ نے ہرمزپر مداخلت کا کوئی اشارہ نہیں دیا‘چند دنوں میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی تیل کمپنیوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کروں گا‘ٹرمپ نے تائیوان کو باضابطہ آزادی کا اعلان کرنے کے خلاف انتباہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ تائیوان کی جانب سے آزادی کے اعلان کے مخالف ہیں‘حملے کی صورت میں ہم اس کا دفاع کیوں کریں ؟جبکہ چین نے تہران اور واشنگٹن پر زوردیاہے کہ وہ اپنے تنازعات اور اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں ‘مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کیلئے جلد از جلد پائیدار اور جامع جنگ بندی ضروری ہے ‘جنگ دوبارہ نہیں ہونی چاہئے جبکہ آبنائے ہرمزکو جلد دوبارہ کھولنا چاہئے ‘اس تنازع کا جلد از جلد حل تلاش کرنا نہ صرف فریقین بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔ تفصیلات کے مطابق نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں عباس عراقچی کا کہناتھاکہ اسلام آباد مذاکرات کا مرحلہ ناکام نہیں ہوا مگر یہ بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے‘اس کی وجہ بھی امریکی رویہ ہے۔کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہیں۔ ایران کسی بھی دباؤ اور کارروائی کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں۔ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور صرف اپنے دفاع میں اقدامات کیے ہیں۔جو عسکری کارروائی سے حاصل نہیں ہوسکا وہ مذاکرات کی میز پر حاصل نہیں ہو سکتا۔ایران کے کسی بھی مسئلے کا حل عسکری طریقے سے ممکن نہیں۔ عراقچی نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات میں تسلسل کا فقدان رہا، ایک دن کی ٹویٹ دوسرے دن سے مختلف ہوتی تھی ۔متضاد پیغامات کی وجہ سے ایران کو امریکا کے اصل ارادوں پر شک ہے ‘ہمیں امریکیوں کی جانب سے دوبارہ پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ وہ مذاکرات اور رابطہ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں‘ ہمارے چین کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں‘ہم اسٹریٹجک پارٹنرزہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ چین کی نیت اچھی ہے لہٰذا وہ سفارتکاری میں جو بھی مدد کرے گا ایران اسے خوش آمدید کہے گا‘انہوں نے مزید کہا کہ ایران سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔ دوسری جانب چین کے دورے سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدرٹرمپ کا کہناتھاکہ ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی‘ میں خود اس کے حق میں نہیں تھا مگر ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک فیور کے طور پر کیا۔ انہوںنے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار لوگ ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی تجاویزمکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔20سال تک جوہری پروگرام کی معطلی اچھی تجویز ہے مگر یورینیم افزدوگی سے متعلق لیول کی گارنٹی تسلی بحش نہیں ہے۔آبنائے ہرمز سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں نے چینی صدرسے کسی فیور کے لیے نہیں کہا‘ہمیں کسی فیور کی ضرورت نہیں ہے۔ٹرمپ کا مزیدکہناتھاکہ صدر شی سختی سے محسوس کرتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ہرمز کو کھول دینا چاہئے ‘ امریکی صدرنے صحافیوں کو بتایاکہ وہ چند دنوں میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی تیل کمپنیوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کریں گے‘چین امریکا سے اربوں ڈالر کی سویا بین خریدے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی، ممکن ہے دیں اورممکن ہے نہ دیں۔ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اور شی جن پنگ نے تائیوان کے بارے میں بہت بات چیت کی تاہم تائیوان کے حوالے سے شی جن پنگ سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ شی جن پنگ نے ان سے براہِ راست پوچھا تھا کہ اگر چین نے جزیرے پر حملہ کیا تو کیا امریکہ تائیوان کا دفاع کرے گا، لیکن انہوں نے اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کو صرف ایک ہی شخص جانتا ہے اور وہ میں ہوں‘میں واحد شخص ہوں جسے یہ معلوم ہے۔