• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنکی نے بد نام زمانہ منشیات فروش سے شادی کی، طلاق لی، اپنا دھندا شروع کیا

کراچی( ثاقب صغیر )کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے اپنے ڈرگ کارٹیل کے بارے میں بتایا ہے کہ رانا ناصرلاہور کا بدنام زمانہ منشیات فروش ہے، انمول عرف پنکی پہلے ناصر کے لئے کام کرتی رہی اور بعد میں اس نے رانا ناصر سے شادی بھی کر لی،رانا ناصر کے ساتھ منسلک افراد میں اس کے دو بھائی رانا منصور (ایڈووکیٹ) ، رانا شہزور (وکیل) ، بوبی، اور کرن عرف بلیک اینجل (سپلائر) شامل تھے،اس نے یہ بھی بتایا کہ رانا ناصر کا بھائی رانا شہزور کراچی میں کوکین کا بدنام زمانہ ڈیلر ہے۔ملزمہ کے مطابق رانا ناصر اپنی منشیات لاہور میں وکلاء کے دفاتر/چیمبرز میں رکھتا ہے کیونکہ پولیس وکلاء کے دفاتر پر چھاپہ نہیں مار سکتی۔ اس کے دونوں بھائی رانا منصور اور رانا شہزور عرف سلطان وکیل ہیں۔انمول عرف نے انکشاف کیا کہ دو سال تک رانا ناصر اس پر جسمانی تشدد کرتا رہا اور بعد میں بوبی (جو رانا ناصر کا قریبی ساتھی تھا) کے مشورے پر اس نے رانا ناصر سے علیحدگی اختیار کر لی اور منشیات کا اپنا کاروبار شروع کردیا۔ ابتداء میں بوبی نےلاکھوں روپوں کےعوض اسے منشیات سپلائی کی تاہم رانا ناصر کو معلوم ہونے اور اس کی جانب سے دھمکیاں ملنے کے بعد بوبی نے منشیات کی سپلائی بند کردی ، گوگل سے کوکین (منشیات) بنانے کے طریقے تلاش کئے اور کئی ناکام کوششوں کے بعد ایک ایسی منشیات تیار کی جو انتہائی نشہ آور تھی۔ پنکی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی مبینہ طور پر رشوت دینے کا انکشاف کیا ۔اس نے بتایا کہ اے این ایف (ANF) انسپکٹر احسان نے اس کے بھائی ناصر کو کئی بار ڈیفنس سے اغوا/گرفتار کیا اور بھاری رشوت لے کر رہا کردیا۔ اس طرح اس نے اے این ایف کو تقریباً ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے بطور رشوت دیئے۔انمول نے بتایا کہ اس کے سابق شوہر رانا ناصر کے اے این ایف حکام کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اس کے بھائی کو بار بار گرفتار کر رہی تھی۔اس نے انکشاف کیا کہ اس نے ڈی ایچ اے کی حدود میں آنے والے تھانوں درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن میں لاکھوں روپے رشوت دی۔پنکی نیٹ ورک کی اہم ساتھی "بلیک اینجل" تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکی ہے۔ذرائع کے مطابق "بلیک اینجل" کا اصل نام کرن ہے جس نے مبینہ طور پر ایک افریقی باشندے سے شادی کر رکھی تھی۔تفصیلات کے مطابق انمول عرف پنکی نے انکشاف کیا کہ وہ پہلے ناصر کے لئے کام کرتی رہی ۔اس نے رانا ناصر سے شادی بھی کرلی ۔رانا ناصر اسے گاہکوں اور ڈیلرز تک منشیات پہنچانے کے لیے بھیجتا تھا۔اس نے یہ بھی بتایا کہ افریقی باشندے لاہور میں رانا ناصر کی رہائش گاہ پر منشیات پہنچاتے تھے۔رانا ناصر نے اس کی ملاقات بوبی اور کرن سے کروائی جو منشیات فروش تھے۔ اس نے بتایا کہ ڈرگ کارٹیل میں شامل ہونے کے بعد وہ اور رانا ناصر لاہور میں الگ الگ رہنے لگے تھے جبکہ رانا ناصر صرف رقم وصول کرنے گھر آتا تھا۔انمول نے بتایا کہ اس سے وصول کی گئی رقم بعد میں رانا ناصر کے دو بھائیوں، رانا منصور (ایڈووکیٹ) اور رانا شہزور عرف سلطان (وکیل) کو بھیجی جاتی تھی۔ اس نے مزید بتایا کہ رانا شہزور عرف سلطان کراچی میں کوکین / منشیات کا بدنام زمانہ ڈیلر ہے۔انمول عرف نے انکشاف کیا کہ دو سال تک رانا ناصر اس پر جسمانی تشدد کرتا رہا اور بعد میں بوبی (جو رانا ناصر کا قریبی ساتھی تھا) کے مشورے پر اس نے رانا ناصر سے علیحدگی اختیار کر لی۔انمول نے بتایا کہ بوبی نے اسے اپنا کاروبار شروع کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ وہ اسے منشیات کے سیمپل فراہم کرے گا کیونکہ کراچی میں اس کے پہلے ہی کئی خریدار موجود ہیں۔اس نے بوبی کی بات مان لی اور اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ اس نے بتایا کہ بوبی نے اسے 10 سے 12 مرتبہ منشیات فراہم کیں جن کے بدلے اس نے 16 لاکھ روپے ادا کئے۔جب رانا ناصر کو معلوم ہوا کہ بوبی اسے فروخت کے لئے منشیات فراہم کر رہا ہے تو اس نے بوبی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ بعد ازاں بوبی نے اسے منشیات دینا بند کر دیں اور یہ کام دو ماہ تک معطل رہا۔

اہم خبریں سے مزید