کراچی(سید محمد عسکری) سندھ سمیت ملک بھر کے سرکاری میڈیکل کالجوں اور جامعات میں سینئر اساتذہ کی شدید کمی کے باعث ریٹائرڈ فیکلٹی کو دوبارہ کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے اور ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال تک بڑھانے کی سفارشات سامنے آگئی ہیں، جب کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے اصولی طور پر اس تجویز کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس سلسلے میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر امجد سراج میمن نے سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو تفصیلی خط لکھ کر کابینہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کی سطح پر منظوری کی درخواست کردی ہے۔ دستاویزات کے مطابق وائس چانسلر جے ایس ایم یو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری میڈیکل اداروں میں بنیادی اور کلینیکل سائنسز کے تجربہ کار اساتذہ کی کمی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث بعض شعبوں کی بندش کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر تجربہ کار اساتذہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ خدمات انجام دینے کی اجازت نہ دی گئی تو تدریسی معیار، مریضوں کی نگہداشت اور ادارہ جاتی استحکام بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔ خط کے متن کے مطابق یہ معاملہ حال ہی میں پی ایم اینڈ ڈی سی میں زیر غور آیا جہاں کونسل نے اصولی طور پر فیصلہ کیا کہ سرکاری میڈیکل ادارے 65 برس تک کے ریٹائرڈ فیکلٹی ارکان کو خالصتاً کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات کرسکیں گے، تاہم اس بات کی شرط رکھی گئی کہ ایسی بھرتیاں جونیئر اساتذہ کی ترقی، سینیارٹی یا کیریئر اسٹرکچر پر اثرانداز نہیں ہوں گی اور نہ ہی انھیں انتظامی عہدے دیئے جائیں گے۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ایم اینڈ ڈی سی نے اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی قائم کی تھی جس میں سپریم کورٹ کے وکیل اور پی ایم اینڈ ڈی سی کے قانونی رکن بیرسٹر چوہدری سلطان منصور اور بریگیڈیئر (ر) امتیاز عالم شاہ شامل تھے۔