سپریم کورٹ نے 2 پولیس افسران اور 1 کانسٹیبل کے قتل میں ملوث مجرم کی نظرِ ثانی درخواست خارج کر دی۔
عدالتِ عظمیٰ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانا ریاست کی رٹ اور نظامِ انصاف پر حملہ ہے، اسے نجی دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم کی جانب سے نظرِ ثانی کی درخواست 1598 دن کی غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی جبکہ درخواست گزار تاخیر کے ہر دن کا معقول جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مجرم پر 2 پولیس افسران اور 1 کانسٹیبل کے قتل کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 3 بار سزائے موت سنائی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اپنے پہلے فیصلے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔