پشاور(جنگ نیوز)حوصلے بلند ہوں، ہمت جواں ہو اور ارادے مضبوط ہوں تو خوابوں کی تعبیر میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی، فرنٹیئر فاؤنڈیشن میں زیرعلاج تھیلی سیمیا فائٹر 24سالہ عنیت فاطمہ نے کوہاٹ یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے سائیکالوجی میں بی ایس کی ڈگری حاصل کر کے ثابت کر دیا مضبوط ارادوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی، یونیورسٹی کے کانووکیشن میں وہ توجہ کا مرکز رہیں جنہوں نے تھیلی سیمیا جیسے موروثی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود خود کو کسی سے کم نہیں سمجھا، اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اللہ کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے ہمت و طاقت دی، یہ ڈگری میری ڈگری نہیں بلکہ یہ ڈگری ہر اس بچے کی ڈگری ہے جو تھیلی سیمیا جیسے خون کے موروثی مرض کا بہاردی سے مقابلہ کر رہے ہیں، انہوں نے بلڈ ڈونرز سے اپیل کی کہ وہ تھیلی سیمیا فیلوز کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لئے خون عطیہ کرتے رہیں، فرنٹیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین صاحبزاہ محمد حلیم نے عنیت فاطمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ تھیلی سیمیا میں مبتلا اس بچی ہمت اور حوصلہ دیگر تھیلی سیمیا فائٹرز کے لئے مشعل راہ ہے۔