پشاور( نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے آٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آفس میں سیاسی بنیادوں پر لاءافسران کی تعیناتی کےخلاف دائررٹ پٹیشن خارج کردی ہے اور ان کی تعیناتی قانون کے مطابق قراردیا ہے ۔ گزشتہ روزرٹ پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دورکنی بنچ نے کی۔ رٹ میں درخواست گزار وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل دفاتر میں لاءافسران کی تعیناتی سیاسی بنیادوں پر ہوئی ہے جن کیلئے کوئی کرائٹیریا ،تحریری ٹیسٹ وانٹرویو کا میکنزم موجود نہیں ہے ۔ سیاسی بنیادوں پر لاءافسران کی تعیناتی غیرقانونی ہے۔ وکیل کے مطابق لاءافسران کی تعیناتی کے لیے کوئی شفاف، میرٹ پر مبنی اور مستقل طریقہ کار موجود نہیں ہے اوران کی تعیناتی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی طرز پر ہونی چاہیے تاکہ قابل لاءآفیسرز سامنے آسکیں کیونکہ میرٹ پر تقرریاں نہ ہونے سے عدالتی نظام متاثر ہورہا ہے ۔ بعدازاں دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست گزار کی رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے لاءافسران کی تعیناتی درست قراردیا ہے ۔