لاہور( کورٹ رپورٹر ) لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس عابد حسین چٹھہ نے آٹزم سے متاثرہ بچی کا ماہانہ خرچ بڑھانے کیلئے ماں کی درخواست اور باپ کی خرچہ کم کرنے کی الگ الگ درخواستیں مسترد کر د یں،ماں علیہا نورالامین مینگل نے موقف اپنایا کہ فیملی عدالت نے آٹسٹک بچی کا ماہانہ خرچہ ایک لاکھ روپے مقرر کیا ،جبکہ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات پر عام بچوں کی نسبت چار گنا زیادہ اخراجات آتے ہیں،نورالامین مینگل کی پہلی بیوی سے اولاد مہنگے تعلیمی اداروں بشمول ایچی سن کالج میں زیرِ تعلیم ہے، جبکہ ان کا طرزِ زندگی ان کی ظاہر اور خفیہ آمدنی کی عکاسی کرتا ہے، فیملی عدالت نے والد کی مالی حیثیت کے باوجود آٹسٹک بچی کے اخراجات کم مقرر کئے ،استدعا ہے کہ بیٹی کے نان و نفقہ کے تعین کے لیے الگ معیار مقرر کیا جائے، نورالامین مینگل کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی عدالت نے بچی کا خرچہ زیادہ مقرر کیا ہے اور اسے کم کرکے 50 ہزار روپے کیا جائے،عدالت نے قرار دیا کہ فیملی عدالتوں کی فائنڈنگ میں مداخلت نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ فیملی عدالت نے تمام حقائق اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب فیصلہ کیا۔