اسلام آباد (رانا غلام قادر،نیوز رپورٹر) پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر پہنچ گئے، مشترکہ اعلامیے میں ’’نئے دور کی بین الاقوامی برادری‘‘ کے قیام پر اتفاق ہوگیا، اعلامیہ میں’چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ‘ کے قیام، سی پیک 2.0 کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے پر اتفاق، دفاع، سلامتی اور انسداد دہشت گردی تعاون میں مزید وسعت دینےاور گوادر کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے کا فیصلہ جبکہ معدنیات، توانائی، صنعتی پارکس ،زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے، مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نےچا ئنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے دورے کے موقع پر پاک۔ چین زرعی تعاون پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آہنی دوستی کو زراعت، صنعت ،تحقیق و ترقی اور دیگر اسٹرٹیجک شعبوں میں نئے انقلاب میں تبدیل کرینگے،جبکہ بیجنگ میں آئی بی آئی کارپوریشن کے ہیڈکوارٹر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چینی کمپنیوں کو اپنے کاروبار کے فروغ اور توسیع کیلئے بھرپور تعاون فراہم کریگا ۔تفصیلات کے مطابق منگل کو دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیہ میں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین اور پاکستان کی روایتی دوستی جسے دونوں ممالک کی قیادتوں نے نسل در نسل قائم اور فروغ دیا، دونوں ممالک اور عوام کےلئے ایک اہم اثاثہ اور سٹریٹجک سرمایہ ہے، یہ دوستی سفارتی تعلقات کے گزشتہ 75برسوں کے دوران عالمی اور علاقائی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود ہمیشہ مضبوط رہی، دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے پر اعتماد اور احترام کے ساتھ ساتھ اس کی حمایت کی اور مشکلات و چیلنجز کے وقت وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔ بیان کے مطابق دورے کے دوران صدر شی جن پنگ نے وزیرِاعظم سے ملاقات کی جبکہ وزیرِاعظم لی چیانگ نے وزیرِاعظم کے ساتھ مذاکرات کئے، فریقین نے خوشگوار ماحول میں تبادلہ خیال کیا اور چین پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی و علاقائی امور پر نئے اور وسیع اتفاقِ رائے تک پہنچے، وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی شرکت کی اور صوبہ ژی جیانگ کے شہر ہانگژو کا کامیاب دورہ کیا۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق چین اور پاکستان کا دفاع، سلامتی اور انسداد دہشتگردی تعاون میں مزید وسعت دینے کا اعلان کیا گیا ہے، چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ‘‘ کے قیام پر اتفاق، خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کردار پر زور دیا گیا ہے۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ اور عزم کا اظہار کیا جب کہ چین اور پاکستان کا سی پیک 2.0 کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے پر بھی اتفاق رائے کیا گیا۔ گوادر کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے کا فیصلہ، خنجراب راہداری کو مزید فعال کرنے پر زور دیا گیا ہے، دونوں ممالک کا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، خلائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی میں اشتراک بڑھانے پر بھی اتفاق رائے کیا گیا۔ پاکستانی خلا بازوں کی چین میں تربیت، پاکستانی خلا باز کی چینی اسپیس اسٹیشن میں شمولیت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، چین اور پاکستان نے معدنیات، توانائی، صنعتی پارکس اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ چین کی جانب سے پاکستان کیلئے 2025 تا 2029 تین ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے، چین نے پاکستان کی معاشی بحالی اور “اڑان پاکستان” پروگرام کو سراہا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور تمام تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات پر زور دیا گیا ہے، چین نے مسئلہ کشمیر کو تاریخی تنازعہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کی حمایت دہرائی۔ چین نے پاکستان کے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں کردار اور کثیرالجہتی سفارتکاری کو بھی سراہا ہے، چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار اور “اسلام آباد مذاکرات” کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پاکستان اور چین کا مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کردار جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا، چین، پاکستان اور افغانستان سہ فریقی رابطوں میں پیش رفت، ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خلاف واضح مؤقف اپنایا گیا۔