اسلام آ باد ( نیوز رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ابراہیمی معاہدے کو سرنڈر کی دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کسی صورت اسرائیل کے ناجائز قبضے کو قانونی و جائز شکل دینے والے کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کرے گی۔سماجی رابطے کی ویب پرپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے والا امریکی صدر ایک بار پھر مسلم ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کے بقول امریکی صدر اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر غزہ کو تباہ کرنے کے بعد اب مسلم ممالک کو ابراہیمی معاہدے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے۔حافظ نعیم نے کہا کہ فلسطین پورے کا پورا فلسطینیوں کا ہے اور بیت المقدس اس کا دارالحکومت ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا مؤقف تھا اور یہی ہر پاکستانی قوم کا موقف ہے۔انہوں نے کہا کہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دینے کے کسی بھی غاصبانہ فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مسلم حکمرانوں کو امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کرنی چاہیے۔امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “ناجائز مطالبے” کو واضح طور پر مسترد کرنے کا اعلان کریں۔