اسلام آباد ( ممتاز علوی)تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ابراہیمی معاہدوں سے متعلق امریکی مطالبے پر اظہار تشویش، ترجمان اخوانزادہ حسین کا کہنا تھا جنگ کے موقع پر امن معاہدے کو مشروط بنانا واضح ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے اسرائیلی ایجنڈا کارفرما ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے کسی بھی عمل سے مکمل گریز کرے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت پاکستان سے اس معاملے پر فوری، واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک کے ترجمان اخونزادہ حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے موقع پر امن معاہدے کو مشروط بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے اسرائیلی ایجنڈا کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان کے 24 کروڑ عوام ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے 80ہزار سے زائد فلسطینیوں کے خون کا قرض اور امانت ہے۔ انہوں نے ابراہیمی معاہدوں کو اسرائیلی جارحیت اور غنڈہ گردی کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا اصل مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے مسلم امہ کے متفقہ مؤقف میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔