اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیجنگ میں معروف چینی کمپنیوں کے اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقاتیں کیں جن میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت اقتصادی، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔وزیراعظم نے FAMSUN کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مسٹر ژینگ جون چن (Zhengjun Chen) کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے زرعی شعبے، بالخصوص اناج ذخیرہ کرنے، فیڈ کی پیداوار اور غذائی تحفظ کے حوالے سے FAMSUN کی طویل خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نے فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے FAMSUN کو خصوصی اقتصادی زونز اور گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت فراہم کردہ مراعات سے مستفید ہوئے پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی منتقلی کی سہولیات قائم کرنے کی دعوت دی۔وزیراعظم شہباز شریف نے شینڈونگ ژن شو گروپ کارپوریشن کے چیئرمین ہاؤ جیان شن اور ان کے وفد سے بھی ملاقات کی اور پاکستان میں بحری شعبے کی ترقی، بیٹری مینوفیکچرنگ، معدنیات کی پراسیسنگ اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں گروپ کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے ژن شو گروپ کے ژن شو اسپیشل اکنامک زون، پورٹ قاسم میں سی ٹو اسٹیل منصوبے، گوادر اور شمالی معدنیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم نے ان اسٹریٹجک منصوبوں کے لیے حکومت پاکستان کے مکمل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت ان پر تیز رفتار عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی (CCCC) کے چیئرمین مسٹر ژانگ بنگنان(Zhang Bingnan) اور چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن (CRBC) کے اعلیٰ نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے گزشتہ چھ دہائیوں سے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، خصوصاً قراقرم ہائی وے اور رشکئی اسپیشل اکنامک زون جیسے اہم منصوبوں میں ان کمپنیوں کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے سی پیک کے تحت ایم ایل-1، قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ اور دیگر رابطہ سازی کے منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔