• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل ماہرین جدت سے بھر پور چیزیں تیار کرنے میں سر گرداں ہیں۔ اس سلسلے میں چینی سائنس دانوں نے کوئلے سے چلنے والا فیول سیل تیار کیا ہے جو ممکنہ طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تقریباً ختم کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں تھرمل پاور پلانٹس کے ڈیزائن کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

روایتی طریقوں سے کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے میں کاربن کااخراج بہت زیادہ ہوتا ہے، جس سے فضائی آلودگی بھی بڑی مقدار میں پیدا ہوتی ہے۔ اب ماہرین ماحول دوست بیٹریز تیار کررہے ہیں۔ شینزن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جسے وہ زیرو کاربن ایمیشن کول فیول سیل (ZC-DCFC) کہتے ہیں۔

اس ڈیزائن میں کوئلہ جلانے کے بجائے اسے باریک پیس کر اور خشک کر کے ایک خاص پری ٹریٹمنٹ دیا جاتا ہے، جس کے بعد اسے فیول سیل کے اینوڈ چیمبر میں ڈالا جاتا ہے۔ دوسری طرف کیتھوڈ میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے، جس سے اینوڈ میں موجود کوئلہ ایک آکسائیڈ ممبرین کے ذریعے الیکٹرو کیمیکل آکسیڈیشن کے عمل سے گزرتا ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو اسی سسٹم کے اندر پکڑ لیا جاتا ہے اور اسے مزید مفید کیمیکلز جیسے سینگاس (syngas) میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ فیول سیل تقریباً 40 فی صد تک افادیت کے ساتھ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید