• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سب سے پہلے ایک ایسے معدنی ذخیرے کا ذکر جو ہماری ترقی کا ضامن ثابت ہوا اور آج بھی ہم اسی کے بل بوتے پر چل رہے ہیں اور وہ ہے 1952ء میں سوئی کے مقام پر قدرتی گیس کی دریافت، گئے تو تھے ہم تیل کی تلاش میں، مگر ہمیں گیس ملی، جس کا ان دنوں کوئی استعمال نہ تھا اور تھا بھی تو بڑے اور صنعتی شہر کی قربت میں نہ کہ پہاڑوں اور ریگستانوں کے400 کلو میٹر فاصلے پر، لیکن 56انچ قطر کی ایک پائپ لائن ڈال کر اس گیس کو کراچی لایا گیا جو صنعتوں کے علاوہ گھروں کے چولہے جلانے کے کام آئی۔

سوئی کے بعد سندھ اور پنجاب میں سو سے زائد مقامات گیس فیلڈ دریافت ہوتی رہیں اور وہ سب سوئی کی پائپ لائن میں جوڑی جاتی رہیں۔ بجلی کا کچھ حصہ بھی اس سے بنتا ہے اور فرٹیلائز بھی اسی کا مرہون منت، پچاس برس اس نے ہمارا خوب ساتھ دیا، لیکن اب ذخیرے کم ہونے لگے اور ہماری آبادی بڑھتی گئی، اس طرح ہم نے اسے سلنڈروں میں بھر کے CNG سے گاڑیاں جلانا شروع کردیں۔

اب ہم کو قطر سے LNG منگانا پڑتی ہے جو مہنگی بھی ہے اور ترسیل کے راستے رک جائیں تو قلت کا سامنا بھی، مگر یہ ہماری کامیابی کی کہانی ہے اور بغیر قدرتی گیس کے ذخیروں کا یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ ملک کس حال میں ہوتا۔ اب ایک دوسرے ذخیرہ جو سوئی سے بہت بڑا نہایت قدیم اور تاریخی مگر ہم نے اس کی قدر نہ کی اور وہ ہمارے دسترخوانوں کی زینت تو بنتا رہا، مگر صنعتی یا معاشی ترقی میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ میری مراد کھیوڑہ کے چٹانی نمک سے ہے۔

ہم نے اس نمک اور سمندر کے پانی سے حاصل کرہ نمک کو ایک ہی سمجھا، پہلے دنوں میں دونوں آٹھ آنے سیر ملتے تھے اور آج بھی ان کے کلو کے پیکٹ ایک ہی قیمت پر بکتی ہیں۔ یہ نمک اٹھانوے(98) فی صد تو سوڈیم کلورائیڈ ہے لیکن دو فیصد84ٹریس عناصر ہیں، جس کی وجہ سے اس کا رنگ گلا بی اور خوشبو مختلف ہے۔ تیسری مثال ایسے چٹانی ذخیرے کی ہے، جس سے ہم نے خوب فائدہ بھی اٹھایا، صنعتی اور مواصلاتی ترقی میں اس کا بڑا رول رہا، مگر اس کے جو امکانات تھے، ان کا حق ادا نہ ہوا۔

بات ہورہی ہے لائم اسٹون کی۔ پاکستان کے تمام پہاڑی سلسلے لائم اسٹون یعنی چونا پتھر کی تہوں سے بھرے ہیں۔ ان کے تین استعمال ہمارے سامنے ہیں۔ ایک یہ سیمنٹ بنانے کا خام مال ہے، دوئم سڑکوں کی تعمیر میں جو روڑی بچھائی جاتی ہے وہ اسی لائم اسٹون کی ہوتی ہے اور تیسرے ماربل ہم نے کارخانے سیمنٹ کے بڑی تعداد میں بنائے، لیکن 80ملین ٹن کی گنجائش رکھنے کے باوجود ہم صرف اس کا نصف سیمنٹ بناتے ہیں اور اس کی ایکسپورٹ چند ہمسایہ ملکوں افغانستان، ہندوستان اور تاجکستان کو ہوتی ہے۔

سونے، تانبے کی کہانی ذرا رمختلف ہے۔ بلوچستان کے ایک کونے میں تفتان بارڈر سے قریب سیندک نامی پہاڑی میں تانبے کے ذرات ملے، مگر وہ اتنے کم کہ ایک فیصد بھی نہیں بلکہ 0.3فیصد، دوسرے لفظوں میں اگر آپ تین سو ٹن چٹان کھود کر ڈھیر لگا دیں تو اس میں ایک ٹن تانبہ ہوگا، مگر اس کے ساتھ کچھ ذرات سونے کے اور کچھ مولی بڈنیم (Molybadnium) کے تو اس طرح یہ ذخائر کانکنی کے اہل قرار پائے، مگر ہمارے جیالوجیکل سروے GSP بامنرل ڈیولپمنٹ PMDC کاربولیں کے پاس نہ سرمایہ تھا، نہ صلاحیت، کئی آسٹریلین کمپنیاں آئیں اور گیس اگر سیندک منافع بخش تھا بھی تو صرف کام چلانے پر، آخرکار چائنا کے دوستوں نے کانکنی کی حامی بھری۔

چنٹانیں چورا کرکے تانبہ اور سونے کی موجودگی والے پتھر کو وہ بوریوں میں بھر کر چین لے جاتے ہیں۔ پتھروں سے دھاتوں کو الگ کرنا ان کی ڈلیاں بنانا اور فروخت، اس سب میں ہمارا کوئی دخل نہیں، جتنا ٹن پتھر وہ ہمیں بتادیں اس کی رائلٹی حکومت پاکستان کو ملتی ہے، مگر حقیقت میں کیا کچھ ہوا، وہ پردہ افضا میں رہتا ہے۔

سیندک تو ایک چھوٹا ڈپازٹ تھا اور کسی نہ کسی حد تک آمدنی کا سبب ہے، مگر ریکوڈک کے تانبے، سونے کی کہانی افسوسناک ہے، یہ دنیا کے ان ذخیروں میں سب سے بڑا ہے، جس میں ابھی تک چھڑا نہیں گیا ہے۔ ایک آسٹریلین کمپنی نے اسے دریافت کیا اور تفصیلی سروے اور کیمیائی تجزیے سے انہوں نے اسے ایک بڑا ذخیرہ ثابت کیا، لیکن تانبہ ان کی اسپیشلٹی نہیں تھی، اس لیے انہوں نے اسے کینیڈا کی بیرک گولڈ کمپنی کے ہاتھوں بیچ دیا۔

ایکسیلوریشن کا کام تو ہوچکا تھا، اب مائنگ کے لیے معاہدہ کرنا تھا، تو غیر ملکی کمپنی نے آفر دی کہ مشینری ہماری ہوگی، ٹیکنیکل اسٹاف بھی ہمارا اور سرمایہ بھی ہم لگائیں گے، لیکن زمین آپ کی ہے، اس لیے منافع سے 25فیصد آپ کو ملے گا۔ زمین ہماری، بہار ہمارا، اس میں پوشیدہ دھاتیں ہماری، آپ پچھتر لے جائیں اور ہمیں پچیس پر ٹرخا دیں۔ بلوچستان گورنمنٹ نے مائنگ کا لائسنس دینے سے انکار کردیا۔ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں، کینیڈین کمپنی نے نیویارک میں پاکستانی ہوٹل روز ویلٹ، تاوان کی جگہ حاصل کرنا چاہا، مگر اس میں وہ کامیاب نہ ہوئے تو پاکستان دوبارہ آئے۔

اب کے معاہدہ ففٹی ففٹی پر ہوا، لیکن منافع میں ففٹی تو سرمایہ بھی ففٹی لگائو، وہ پاکستان کہاں سے لائے۔ سعودی عرب سے درخواست کی کے پندرہ فی صد آپ لگائیں، تو پھر وہ منافع بھی تو پندرہ فیصد لے جائیں گے، پاکستان کو تو اب 25فی صد کے بھی لالے پڑ گئے۔ فی الحال تو جنگ کی وجہ سے تمام کارروائی دھیمی ہوگئی ہے، لیکن جو پہلی آفر تھی وہی سب سے بہتر تھی، مگر ہم جذبات کی رو میں بہہ گئے۔

تانبے کا ذکر ابھی ختم نہیں ہوا، لسبیلہ سے خضدار تک اور پھر شمالی علاقہ جات میں چھوٹے چھوٹے دھاتی ذخائر ہیں۔ مقامی لوگ انہیں دریافت کرتے ہیں اور علاقے کے بڑے سردار، چوہدری یا خان مائننگ کرتے ہیں۔ ایک آدھ جگہ سرکاری محکموں سے لیز لیتے ہیں اور دیگر جگہوں سے اسے ایک لیز کی آڑ میں منرل نکالتے ہیں۔ سودا بالا بالا ہوجاتا ہے۔ اسے undocumented economy میں شمار کرلیجئے۔ ایک اندازہ ہے کہ پاکستان کی undocumented اتنی ہے جتنی لائف بی آر کے کھاتوں میں، گوگل 4578 بلین ڈالر بناتا ہے۔

تھر کا کوئلہ نو ہزار کلو میٹر پر پھیلا ہوا۔ اس کی اہم کانکنی اسلام کوٹ کے نواح میں ہورہی ہے۔ ذخائر کا اندازہ 175 بلین ٹن ہے۔ کراچی سے 400 کلو میٹر دور بڑا ڈپازٹ کئی بلاک میں تقسیم کیا گیا ہے تو اس وقت دو بلاکس 7.8 سے 7.8 ملین ٹن کا سالانہ نکالا جارہا ہے، جس سے دو بلاک 2.6 G-W بجلی بنا رہے ہیں جوکہ ابھی لائی جاتی ہے۔ یہ 607ء سستی ہے، K-E کی بجلی سے تھر کا کوئلہ 1980ء میں سندھ میں چھاچھرو کے مقام پر ایک پانی کے کنویں کی کھدائی میں نظر آیا۔

جاپان کی مدد سے کئی سال تک سروے ہوتا رہا اور ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوتے وقت تھر کے کوئلے کی کانکنی کے لیے تیار تھے، چین کی کمپنی شہنوا نے 2002ء میں آٹھ یا سینٹ فی کلو واٹ بجلی کی قیمت کی پیش کش کی۔ ہم نے 4 سینٹ کا مطالبہ کیا۔ معاملہ ایک انگریز کمپنی کی ثالثی میں گیا۔ انہوں نے سات سینٹ کو درست قرار دیا۔ اب ہم یہ معاہدہ کرلیتے تو بیس برس سے ہمیں بجلی کی اتنی تنگی نہ ہوتی، مگر ہم نے یہ آفر مسترد کردی اور کمپنی واپس چلی گئی۔

CEPEC کے تحت 2015ء میں دوبارہ کام شروع ہوا اور ہمیں پہلی بجلی 2024ء میں ملی۔ تھر سے کوئلہ نکالنا اور بجلی بنانا ہمارے لیے بغیر چین کے تعاون کے ممکن نہ تھا۔ اس وقت Engro اور چینی کمپنیوں کا یہ جوائنٹ پروجیکٹ ہے اور آپ اسے ابتدائی مرحلے میں سمجھئے۔ اگر ہم ہمیشہ کے لیے بجلی گھروں سے نجات پالیں جو ہمارا خون چوس رہے ہیں اور تھر سے بجلی میں اضافہ ہو تو ہم کہہ سکیں گے کہ اس معدنی ذخیرے نے قوی ترقی میں کردار ادا کیا۔

جب ہم کوئلے سے بجلی کی بات کررہے ہیں تو کیوں نہ پن بجلی کا ذکربھی ہوجائے۔ جب ہم نے منگلا ڈیم بنانے کا سوچا اور ورلڈ بینک سے اس کے لیے قرضہ مانگا تو اس سے پہلے یہ ضروری تھا کہ ہندوستان سے ہمارا ایک معاہدہ ہوجاتا کہ یہ دریا جو سب کشمیر سے آتے ہیں، اس پر پاکستان کا کتنا حق ہے۔ طے پایا کہ سندھ، جہلم اور چناب پورا پاکستان کے حصے میں اور ستلج بیاس اور راوی ہندوستان کے۔ اس معاہدے پر 1960ء میں پنڈت نہرو اسلام آباد آئے اور اس پر دستخط ہوئے۔ کہا جاتاہے کہ ہمارے دریا بیچ دیے گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ تین دریائوں پر مکمل حقوق حاصل کرنے کے بعد بھی دریائے جہلم پر منگلا ڈیم اور دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم بنا۔ قدرتی وسائل ہماری ترقی کے ضامن بنے۔ چھ ہزار میگاواٹ سستی بجلی ہمیں ان دونوں ڈیم سے ملتی ہے جو ابتدا میں ہماری ضرورت کا نصف تھی، مگر بڑھتی آبادی کے ساتھ اب اس کا حصہ ایک چوتھائی رہ گیا ہے اور بجلی کی قیمت آپ خود جانتے ہیں۔ اگر ہم نے کالا باغ ڈیم بنایلا ہوتا تو نہ لوڈشیڈنگ ہوتی، نہ مہنگی بجلی، اگر منگلا اور تربیلا ہماری کامیاب پلاننگ اور انجینئرنگ کا شاہکار ہے تو کالا باغ ڈیم ہمارے اختلافات کی تصویر۔

گیس، کوئلہ، پن بجلی پر بات ہوگئی، مگر تیل کا نام کہیں نہیں آیا، کیوں کہ یہ جتنی کامیابی کی داستان ہے اتنا ہی ناکامی کی، پہلا کامیاب کنواں ہم نے 1915ء میں پوٹھوار میں مکمل کرلیا تھا۔ اب جو ایک سو دس سال گزرے اس میں ہم نے ایک دو ہزار کے قریب ایکسپلویزی ولز (Exploratory wells) کھودے، جس میں دو تین میں ایک کنواں کامیاب ہوتا، تیل گیس یا دونوں ایک ہی کنویں سے گیس کا ایک بڑا ذخیرہ سوئی ہمیں ابتدا میں ہی مل گیا تھا، پھر چھوٹے چھوٹے ملتے رہے اور سوئی کی پائپ لائنوں سے جوڑے جاتے رہے، مگر تیل کا ایک بھی بڑا ذخیرہ ہمیں سو سال میں نہیں ملا۔ تیل کی ٹوٹل پیداوار ساٹھ، پیسٹھ ہزار بیرل روزانہ جب کہ ہماری ضرورت چار سے پانچ لاکھ بیرل ہے تو گویا ہم صرف 15فیصد تیل اپنے کنوئوں سے اور 85فیصد مڈل ایسٹ کی فیلڈ سے درآمد تویہ تو معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

اس کی وجہ تلاش کرنا بہت مشکل ہے، نہ ٹیکنکل صلاحیتوں کی کمی ہے، نہ اس معاملے میں کرپشن کا دخل ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہم سرمائے کی کمی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان کا 85فی صد رقبہ ایسا ہے جہاں تیل مل سکتا ہے، لیکن اتنا سرمایہ نہیں کہ ہم بیک وقت دس بیس کنویں ایک ہی صوبے یا خطے میں کھود سکیں، اس کے علاوہ ایک ٹیکنیکل وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ زیر زمین چٹانوں میں گلے سڑے جانداروں یا نباتات سے تیل تو بنالیکن کوئی ایسی چٹان یا اسٹرکچر نہیں تھا جہاں تیل ڈپازٹ ہوتا، وہ سطح زمین پر پہنچ کر ضائع ہوگیا، جو تھوڑا بہت بچا وہ چھوٹی چھوٹی فیلڈ کی شکل میں ہمیں مل جاتا ہے۔

جواہرات سے انسان کی دلچسپی بہت قدیم ہے۔ ہندوستان کو جواہرات اور مصالحہ جات سے پہچانا جاتا تھا۔ کم از کم کوہ نور ہیرے سے تو سب واقف ہیں۔ پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقوں میں جواہرات کی قدیم کانیں نہیں ہیں، البتہ وقتاً فوفتاً جو ذخائر دریافت ہوتے رہے، ان میں سوات کا زمرد، ہنزا Hunza کا یاقوت اور مردان کا پکھراج سرفہرست ہے۔ اسی کی دہائی میں ہمیں ان ذخائر کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور حکومت نے جم اسٹون کارپوریشن قائم کی۔

جیالوجیکل سروے آف پاکستان پہلے ہی سے ان اثاثوں کے حجم کو پیمائش کررہی تھی تو ایک اندازہ یہ بتاتا ہے کہ ان سب معدنیات جواہر میں شمار ہوتے ہیں، ان کی مالیت ساڑھے چار سو بلین ڈالر ہے۔ ریکوڈک تانبے سے ہم نے ابھی تک کمایا کچھ نہیں مگر 6بلین ڈالر تاوان عائد ہوا اور اس کی اپنی مالیت 37برس میں 53بلین ڈالر ہوگی۔

ایک دوسرا پہلو، جواہرات کی کھپت میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے، لیکن ایکسپورٹ میں 79th۔ ہم صرف 6ملین ڈالر کے جواہرات ایکسپورٹ کرتے ہیں، اونٹ کے منہ میں زیرہ، کراچی اور پشاور جواہرات کی مارکیٹ میں جہاں افغانستان کے قیمتی پتھر بھی فروخت کے لیے آتے ہیں۔ ابھی چند ہفتے پہلے حکومت جاگی ہے اور اس کے جواہرات کی مائننگ کی پانچ ہزار کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکٹس کا اہتمام کریں۔ جواہرات کی تراش بہتر بنانے اور مائننگ کو جدید آلات کے استعمال سے کانکنی کریں، تاکہ بڑے سائز کے زمرد، یاقوت یا پکھراج نکلے، جس کی قیمت زیادہ لگائی جاتی ہے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قیمتی پتھروں کے وسائل ترقی کے ضامن ہوں گے؟ حکومت کا کہنا ہے کہ پانچ سال میں ہم اپنی ایکسپورٹ ایک بلین ڈالر تک لے جائیں گے۔ شاید کہ ایسا ہوجائے کیونکہ ایک بلین نہ سہی، نصف بلین، ورنہ 250ملین ڈالر تو کہیں نہیں گئے اور یہ بھی ترقی کے لیے کارآمد ہیں۔

اب آخری معدن کا ذکر وہ ایک دھات نہیں بلکہ دھاتوں کا ایک گروپ ہے، جسے ’’ریئر ارتھ ایلیمنٹس‘‘ (Rare Earth Elements) کہتے ہیں۔ REE یہ دھاتیں ایسی برق مقناطیسی خصوصیات رکھتی ہیں جو بیٹریوں کے لیے کمپیوٹر یا ان کی چپس کے لیے الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر آلات، غرض ان کا ہر طرف غلغہ ہے۔ انہیں اسٹرٹیجک منرل کا درجہ دیا جارہا ہے، یہ جس کے پاس ہوں وہ کامران اور جس کے پاس نہیں وہ محتاج۔

اب تک دس ممالک میں یہ دریافت ہوئے ہیں۔ چین پہلے نمبر پر 40فی صد، پانچویں ہندوستان، 8 فی صدذخائر کا مالک اور کینیڈا، دسویں نمبر پر پاکستان کا شمار اس سے اگلے بیس ممالک میں ہوتا ہے جہاں یہ دھاتیں کسی نہ کسی مقدار میں ہیں۔ امریکاکے پاس بھی یہ دھاتیں 2.5فیصد ہیں، دوئم مقناطیسی دھاتوں کو خالص کرنے کی ٹیکنالوجی فی الوقت صرف چین کے پاس ہے تو امریکہ بھی مجبور ہے کہ مائننگ کے بعد اسے چین بھیجے جہاں خالص دھات کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے تو اب امریکا کی نظریں ان ملکوں پر ہے، جہاں سے ان ریرارتھ منرلز کا سودا کیا جاسکتا ہے۔

چنانچہ ایک معاہدہ پانچ سو ملین ڈالر کا جس سے امریکا تلاش اور مائننگ کے کام میں مدد دے گا۔ (ان دھاتوں کے نام Lanthanium سے Yttrium تک ہیں۔) اب ایک شنید ہے کہ 2025ء میں پاکستان نے کاپر کے ساتھ دو رئیرارتھ منرل بھی امریکہ کو اس پروجیکٹ کے تحت ایکسپورٹ کیے ہیں۔بحیثیت مجموعی معدنی ذخائر ہماری ترقی میں ممدو معاون تو ثابت ہوئے، مگر ان سے ایسی کوئی پائیدار ترقی نہ ہوسکی کہ انہیں ترقی کی ضمانت کہا جاسکے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید