وفاقی وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا اور اپنے پانی کے حق پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ قانونی، اخلاقی اور عالمی سطح پر مؤثر حیثیت رکھتا ہے جبکہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنے مؤقف کو مضبوط انداز میں منوایا ہے۔
معین وٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان 25 کروڑ عوام کے آبی حق کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا، بھارت کی آبی جارحیت خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور آبی حقوق کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔