کوئٹہ(پ ر) آفیسرز ایسوسی ایشن محکمہ محنت و افرادی قوت یونٹ کے صدر میر اعظم رئیسانی جنرل سیکرٹری خیر محمد رند اور دیگر نے کہا ہے کہ تنخواہوں و پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز کسی صورت قبول نہیں،تنخواہوں و پنشن میں 50 فیصد اور ہاؤس رینٹ، میڈیکل و کنوینس الاونس میں 5 گنا اضافہ کیا جائے،ایک کی بجائے تمام ایڈہاک ریلیف ضم کر کے پے سکیل ریوائز کیے جائیں،چاروں صوبوں کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دیا جائے انکم ٹیکس ریبیٹ بحال کیا جائے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شدید مہنگائی کا قہر نازل ہے جہاں اس عذاب سے عام عوام متاثر ہیں وہیں سرکاری ملازمین بھی لا محدود مہنگائی سے شدید متاثر ہیں بلکہ ان کی زندگیاں اجیرن ہوچکی ہیں۔محدود ذرائع انکم سے ان کی قوت خرید شدید متاثر اور گھر چلانا دشوار ہے۔ وفاقی بجٹ 26-2025میں اعلان کردہ 30 فیصد ڈسپییرٹی الاؤنس سے بلوچستان و دیگر صوبوں کے ملازمین تاحال محروم ہیں۔