فرانسیسی جریدے نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے خطرناک موڑ قرار دیا ہے۔
جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق بھارت نے اپریل 2025ء کے پہلگام واقعے کے بعد پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، اس میں تبدیلی صرف دونوں ممالک کے اتفاق سے ممکن ہے۔ مستقل ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے۔
بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی عدم فراہمی پاکستان کے لیے سیلابی پیشگی وارننگ کو مشکل بنا رہی ہے۔
پاکستان کا مؤقف صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی حقوق، زراعت، خوراک اور بقا کا معاملہ ہے، پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے۔
سندھ طاس نظام پاکستان کی معیشت اور آبادی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، آبی تنازع دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی اور ماحولیات کا سوال بن چکا ہے۔ آبی ڈیٹا کی شفاف فراہمی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔